خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 506
خطبات ناصر جلد ہشتم خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۷۹ء قیامت کے دن ہم انہیں کچھ بھی وقعت نہیں دیں گے۔یہ ان کا بدلہ ( یعنی ) جہنم اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے کفر ( کا طریق) اختیار کیا اور میرے نشانوں اور میرے رسولوں کو (اپنی) ہنسی کا نشانہ بنالیا۔“ سورہ کہف کی ان آیات میں دس باتیں بیان کی گئی ہیں۔پہلی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں ان لوگوں کے متعلق بتائیں جو سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے ہیں اپنے اعمال کے لحاظ سے۔انسان مختلف قسموں میں بٹ جاتے ہیں اپنے اعمال کے لحاظ سے۔ایک وہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی معرفت رکھتے ہیں، ایک وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کا عرفان نہیں رکھتے ، ایک وہ ہیں جو زندہ مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیں ، ایک وہ ہیں جن کا زندہ مذہب سے تعلق نہیں ہوتا، ایک وہ ہیں جو دنیوی لحاظ سے شریفانہ زندگی گزارتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو دنیوی معیار کے مطابق بھی بد زندگی گزارنے والے ہیں۔ہر شخص اپنے رب سے اپنے اعمال کے مطابق بدلہ پاتا اور جزا حاصل کرتا ہے اور وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کے پیار کو اپنی قوتوں اور استعدادوں کے دائرہ کے اندرا اپنی اس سعی کے مطابق جو وہ اس دائرہ میں اپنے خدا کے حضور مقبول سعی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اس کے مطابق وہ بدلہ پاتے ہیں۔وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے غضب کو حاصل کرتے ہیں اور قہر کی آگ ان کے حصہ میں ہے لیکن ان میں بھی فرق ہے۔کسی پر اللہ تعالیٰ کم غضب نازل کرتا ہے کسی پہ زیادہ کرتا ہے۔یہاں یہ مضمون شروع کیا گیا ہے اس بات سے کہ جوسب سے زیادہ گھاٹا پانے والے ہیں ان کے متعلق ہم تمہیں کچھ بتانے لگے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے اپنے اعمال کے لحاظ سے وہ ہیں کہ جو ایک تو خدا کو پہچانتے نہیں ، اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے۔دوسرے وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نشان ظاہر ہوتے ہیں ان کو پہچانتے نہیں اور جس غرض سے وہ نشان ظاہر ہوتے ہیں وہ غرض ان کی نظر سے پوشیدہ رہتی ہے۔بدقسمت ہیں وہ اس لئے کہ ان کی ساری توجہ، ان کی ساری کوشش، ان کا سارا عمل ان کا مقصود اور ان کی ہمت جو ہے