خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 505
خطبات ناصر جلد ہشتم ♡♡ خطبہ جمعہ ۲۱ دسمبر ۱۹۷۹ء سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ورلی زندگی کو ہی مقصود بنالیا خطبه جمعه فرموده ۲۱ / دسمبر ۱۹۷۹ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ کہف میں فرمایا :- قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالاً - الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعَا - أُولَبِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَيْتِ رَبِّهِمْ وَلِقَابِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَزُنَا - ذَلِكَ جَزَا وَهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا وَاتَّخَذُوا أَيْتِي وَرُسُلِى هُزُوًا - (الكهف : ۱۰۴ تا ۱۰۷) تفسیر صغیر میں اس کا ترجمہ یہ ہے۔تو (انہیں) کہہ ) کہ ) کیا ہم تمہیں ان لوگوں سے آگاہ کریں جو اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے ہیں۔( یہ وہ لوگ ہیں ) جن کی ( تمام تر کوشش اس ور لی زندگی میں ہی غائب ہو گئی اور (اس کے ساتھ ) وہ (یہ بھی ) سمجھتے ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے نشانوں کا اور اس سے ملنے کا انکار کر دیا ہے اس لئے ان کے (تمام) اعمال گر کر (اسی دنیا میں ) رہ گئے ہیں۔چنانچہ