خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 495
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۹۵ خطبہ جمعہ کے دسمبر ۱۹۷۹ء کرلوں گا۔میں نے اس کو فرسٹ ائیر میں دس روپے لے کے داخل کیا۔فیس وغیرہ ہر قسم کی۔اور اس کے بعد ایک دھیلا اس سے نہیں لیا اور مجھے یقین ہے کہ ان کے گھروں میں ممکن ہے کہ ایک وقت کا کھانا بھی نہ پکا ہو اس وجہ سے۔بڑی قربانی ہے یہ یعنی اس قسم کے حالات میں دس روپے بڑی قربانی تھی اور وہی میں خود اس سے لینا چاہتا تھا اس کے پڑھنے کے لئے اس کے خاندان سے لینا چاہتا تھا۔ایک دفعہ وہ بیمار ہو گیا۔مجھے پتا لگا میں نے اپنے ایک پروفیسر کو بھیجا۔میں نے کہا اس کو تانگے پر بٹھاؤ اور لے جاؤ چوٹی کے ایک ڈاکٹر تھے لا ہور۔اب وہ فوت ہو گئے ہیں۔ان کے پاس لے جاؤ اور ان کو جا کر پہلے کہ دین وہ کپڑے دیکھے گا اس کے۔ہئیت کذائی دیکھے گا اور سمجھے گا غریب ہے تو جہ نہیں کرے گا۔کہنا یہ لڑکا بڑا غریب ہے لیکن جس کالج میں یہ پڑھ رہا ہے وہ غریب نہیں۔اس واسطے اس کی صحیح طرح تشخیص کرو اور بہترین ،سب سے مہنگی دوائی جو تمہارے نزدیک اس کے لئے چاہیے، وہ اس کے لئے نسخہ لکھ دو تم۔اس ایک مرض میں میرا خیال ہے قریباً تین سو روپیہ اس کے او پر خرچ کیا۔دس روپے اس سے لئے تھے لیکن دس روپے کا دکھ مجھے اب بھی ہے لیکن ضروری تھا میرے نزدیک۔تو میں آپ کو بتا یہ رہا ہوں کہ جب میں یہ کہتا ہوں کہ جو ایک تو بہت اونچے ہیں لوگ اور ایک ان سے ذرا نیچے اور اس کی مثال میں میں نے کہا کہ دس بارہ نمبر لیتا تو وظیفہ لے لیتا لیکن جہاں تک ہماری طاقت تھی ہم نے بلا امتیاز عقیدہ اور علاقہ ہر ایک کو جو ہمارے پاس آیا ہم نے دیا۔یعنی سینکڑوں کو تعلیم دلوا دی اللہ کے فضل سے۔یہ جو میں نے ابھی کہا کہ یہ جو ذرا کم وظیفہ لائن سے ہیں وہ آگے بھی نکل جاتے ہیں۔ہمارے ہاں ایک احمدی لڑکا تھا اپنا خرچ کر رہا تھا۔بہت نچلے درجے کی سیکنڈ ڈویژن یا اونچے درجے کی تھرڈ ڈویژن میں اس نے میٹرک پاس کیا اور ہمارے پاس آ کے ایف ایس سی پاس کیا یعنی بہت نچلے درجے کی سیکنڈ ڈویژن یا اوپر کی تھرڈ ڈویژن میں اس نے ایف ایس سی پاس کیا اور اچھی بہت اچھی سیکنڈ ڈویژن میں اس نے بی ایس سی پاس کیا اور فرسٹ ڈویژن میں اس نے