خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 494
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۹۴ خطبہ جمعہ کے ردسمبر ۱۹۷۹ء کیسے ضائع کیا جاسکتا ہے۔ایسے بچے جو ذرا کم نمبر لینے والے وظیفہ کی حد سے۔احمدی بھی اور ہمارے دوسرے بچے بھی بیبیوں کی تعداد میں ان کو ہر قسم کی سہولت دے کے تعلیم الاسلام کالج نے پڑھایا ہے۔اس واسطے کہ مجھے ایک ہدایت بنیادی طور پر حضرت مصلح موعودؓ نے دی تھی جب میں کالج کا پرنسپل بنا اور وہ یہ تھی کہ کالج اس لئے کھولا گیا ہے کہ ہمارا ملک تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے ہے۔مدد کرنی ہے قوم کی تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی۔تبلیغ اس کی غرض نہیں۔وہ دوسرے محکمے ہیں تبلیغ کرنے کے، ہر قسم کا لڑکا آیا اور اس کو اگر وہ غریب تھا اور ذہین تھا کالج نے وظیفہ دیا۔ایک ایسا طالب علم آیا میرے پاس جس نے بس ذرا کم نمبر وظیفہ سے لئے ہوئے تھے۔یہ لاہور کی بات ہے اور مہاجر تھا اور ہندوستانی تھا۔میں نے اس کے کوائف پوچھے تو کہنے لگا ایک پیسہ نہیں خرچ کر سکتا۔مجھے کسی نے کہا ہے پڑھنا ہے تو تعلیم الاسلام کالج میں چلے جاؤ۔خیر میں نے پوچھنا شروع کیا۔میں نے کہا تم کہتے ہو ایک پیسہ خرچ نہیں کر سکتا۔تو دسویں کیسے تم نے پاس کر لی۔یہ بتاؤ مجھے۔پھر اپنی دکھ کی داستان مجھے سنائی۔کہنے لگا میرا ایک بڑا بھائی ہے وہ کلرک ہے گورنمنٹ کے کسی محکمے میں اور اس وقت تنخواہیں کم تھیں۔اب تو زیادہ ہوگئی ہیں۔سو کے قریب اس نے بتایا صحیح نہیں مجھے یاد کم و بیش سو ، کچھ کم کچھ زیادہ۔یہ اس کی تنخواہ ہے کہنے لگا میرے والد اور والدہ بھی زندہ ہیں اور دونوں نابینا ہیں۔میرا بھائی والدین کو بھی پالتا ہے اور تھوڑی بہت اس نے میری مدد بھی کی۔مجھے کھانا کھلاتا رہا۔گھر میں میں رہتا ہوں اس نے مجھے کھانا دیا اور تھوڑی سی مدد کی۔کوئی پنسل لے دی کچھ اور سکول والوں نے میری فیس معاف کر دی اور اس طرح اس نے اتنے اچھے نمبر لئے کہ اگر دس نمبر اور لیتا تو وظیفہ مل جاتا اس کو۔میں نے کہا، ٹھیک ہے تمہیں داخل کروں گا لیکن میرے دماغ نے یہ سوچا کہ اگر پڑھنے کی خاطر اس نے خود اور اس کے خاندان نے قربانی نہ کی تو ممکن ہے یہ بے تو جہ ہو جائے پڑھائی سے۔یعنی اب میں بات کر رہا ہوں تب بھی مجھے دکھ ہو رہا ہے کہ میں نے اسے تکلیف دی لیکن وہ تکلیف پہنچانا ضروری تھا میرے نزدیک۔میں نے اسے کہا کل آجانا۔دس روپے لے آنا میں تمہیں داخل