خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 472 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 472

خطبات ناصر جلد هشتم ۴۷۲ خطبه جمعه ۲۳ / نومبر ۱۹۷۹ء ہوں گے بھول گئے ہوں گے۔بعض نے پڑھے ہی نہیں ہوں گے۔پھر اس کو تازہ کریں اپنے ذہنوں میں۔سارا منصوبہ اسلام کی ترقی کا اس مرکزی نقطے کے گردگھومتا ہے۔مسجد حرام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں ، ان دونوں کو اکٹھا کر کے وہ مرکزی نقطہ بنتا ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور اس بعثت کے مقاصد کی کامیابی کے لئے اللہ تعالیٰ کا ایک انتظام جو ہزاروں سال سے خدا تعالیٰ نے اس کو جاری کیا ہوا تھا۔اس منصوبہ کی بنیاد اس پر ہے اِن اَوَلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ (ال عمران: ۹۷) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ بنی نوع انسان کی بھلائی کا سامان پیدا کیا جائے۔۔میں نے تفصیل سے ان خطبات میں بیان کیا تھا کہ بنی نوع انسان کی بھلائی کی کوئی کوشش جو بیت اللہ سے تعلق رکھنے والی ہو یا کسی اور سلسلہ نبوت سے تعلق رکھنے والی ہو، بعثت محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تاریخ انسانی میں ہمیں نظر ہی نہیں آتی۔اسی سے میں نے نتیجہ یہ نکالا کہ یہ سب کچھ جو ہورہا تھا وہ خدا کے محبوب ہمارے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے لئے ہور ہا تھا اور جو ایک خوشخبری کا پیغام نوع انسانی کو دیا گیا تھا وہ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا (ال عمران:۹۸) ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو اس چار دیواری کے اندر داخل ہو وہ امن میں آ گیا۔وہ بھی ہے لیکن محض وہ نہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کی زندگی اس تعلیم کے احاطہ کے اندر آ کر شیطانی وساوس سے محفوظ ہوگئی۔جس تعلیم کا تعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور بیت اللہ سے ہے، وہ امن میں آ گیا۔اب دنیا نے بین الاقوامی یعنی ساری دنیا کے لئے امن کی کوشش تو ابھی ماضی قریب میں شروع کی اور نا کام ہوتے چلے گئے۔بین الاقوامی مجالس بہت سی بنا ئیں لیکن نہ جھگڑوں کو دور کر سکے نہ لڑائیوں کو مٹا سکے، نہ سکونِ قلب جو امن کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے پیدا کر سکے۔اس لئے کہ دنیوی کوششیں جب اللہ تعالیٰ کے قانون اور اس کے منصوبے اور اس کی تعلیم اور ہدایت پر مبنی نہ ہوں وہ کامیاب نہیں ہوا کرتیں۔اس منصوبہ ، اس ہدایت کا تعلق بیت اللہ سے ہے۔اس کا تعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے جن کے لئے یہ سارا کچھ کیا گیا تھا۔بیت اللہ کے مقام پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روشنی ڈالی۔قرآن کریم نے