خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 425
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۲۵ خطبہ جمعہ ۱۹/اکتوبر ۱۹۷۹ء ذریعہ سمجھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص مجھ سے منہ موڑتا ہے وہ متکبر اور ذریت شیطان ہے۔ابى وَاسْتَكْبَر (البقرة : ۳۵) یہ شیطان کے متعلق بنیادی طور پر کہا گیا ہے کہ شیطان نے انسانی زندگی میں ابا اور استکبار کی بنیاد ڈالی تو جو شیطان کی ذریت بنا اور میرے بندوں میں شامل نہ ہوا اور میری عبادت کا حق ادا نہ کیا اسے یاد رکھنا چاہیے کہ رسوائی اس کے نصیب میں ہے اور میرے غضب کی جہنم میں اسے داخل ہونا پڑے گا۔پس جس طرح اس کائنات کی بنیادی حقیقت خدا تعالی کی وحدانیت ہے خدا تعالیٰ واحد و یگا نہ تمام صفات سے متصف ہر عیب سے پاک اور کوئی اس کا مثیل نہیں اسی طرح انسانی زندگی کی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ وہ خدا میں ہو کر زندگی گزارے اور خدا تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا وارث بنے اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ ذریت شیطان ہے اور اللہ تعالیٰ سے دوری کی راہوں پر وہ گامزن ہے اور کامیابی اس کے نصیب میں نہیں ہو سکتی۔اس دنیا کی زندگی پر ہم نے بڑا غور کیا۔بڑے بڑے امیر ملکوں کے بڑے بڑے دولتمند لوگ بھی بے چینی ، مایوسی اور تکلیف کی زندگی میں ہیں۔اور دعاؤں میں اسلام نے بڑی وسعت پیدا کی جیسا کہ میں نے ابھی کہا۔ہر چیز خدا سے مانگو ، ہر چیز میں وہ ہر چیز بھی آگئی جس کا تعلق ایک شخص، فرد واحد کے نفس کے ساتھ ہے وہ ہر چیز بھی آگئی جو اس کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے وہ ہر چیز بھی آگئی جو اس کے علاقہ سے تعلق رکھتی ہے وہ ہر چیز بھی آگئی جو اس کے ملک سے تعلق رکھتی ہے وہ ہر چیز بھی آگئی جو اس دنیا اور اس کے زمانہ سے تعلق رکھتی ہے وہ ہر چیز بھی آگئی جو آنے والی نسلوں اور آنے والے زمانوں سے تعلق رکھتی ہے۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم خدا کہتا ہے کہ مجھ سے مانگو، مجھ سے پاؤ۔میں سب کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر وقت اور ہر آن اسے سامنے رکھیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزاریں اپنے ملک کے لئے بھی دعائیں کریں اور نوع انسانی کے لئے بھی دعائیں کریں اپنی نسل کے لئے بھی دعائیں کریں اور آنے والی نسلوں کے لئے بھی دعائیں کریں۔اپنے نفس کے لئے بھی دعائیں کریں اور اپنے بچوں اور اپنے خاندان کے لئے بھی دعائیں کریں اور