خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 398
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۹۸ خطبہ جمعہ ۲۸ ستمبر ۱۹۷۹ء اس کو دے دینا، جو اہل ہے اس کو نہ دینا۔بے شمار شکلیں ہیں تعصبات کی ، بے شمار شکلیں ہیں خدا تعالیٰ کی اس حسین تعلیم کو توڑنے کی جو ہمیں نظر آتی ہیں۔ہمارا کام تو ہے وعظ کرنا۔وعظ کر دیتے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر ہمارا یہ کام ہے کہ ہم یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ نوع انسانی کو اس عظمت سے شناسا کرے جو عظمت خدا تعالیٰ نے ان کے لئے پیدا کی اور جن رفعتوں تک خدا تعالیٰ انسان کو لے جانا چاہتا ہے نوع انسانی اس رفعت کو حاصل کرے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چل کے وہ اس یقین پر پہنچیں کہ واقعی ایسی جنتیں جن کے حسن کی ، جن کی لذت کی ، جن کے سرور کی کوئی مثال نہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی رضا کی ان جنتوں تک ہمیں لے جانے والے ہیں ہمارا کام ہے دعائیں کریں اور وعظ کریں۔وعظ بھی ہم کر دیتے ہیں اور دعائیں بھی۔آپ کو بھی جتنی توفیق ملے بہت دعائیں کریں۔نوع انسانی کے لئے دعائیں کریں پہلا حق تو ان کا ہے نا۔پہلا حق اس کا ہے جس کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مخاطب کر کے کہا میں تمہاری طرف مبعوث ہو کر آیا ہوں وہ ہیں كَافَةُ لِلنَّاسِ۔اِنِّى رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُم جَمِيعًا۔اے لوگو! میں ساروں کی طرف آیا ہوں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں تم سب کی طرف اے انسانو ! مبعوث ہو کے آیا ہوں اور اگر ہم اپنی دعاؤں میں سب انسانوں کو بھول جائیں تو پھر ہمارا کیا پیار باقی رہ جائے گا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان حقائق کے سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور مقام کو اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے حُسن اور اس کے احسان کو اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور اور آپ کے اُسوہ کو پہچانتے نہیں تو فیق عطا کرے وہ ان سب کو پہچاننے لگ جائیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں داخل ہونے کا ان کے لئے سامان پیدا ہو جائے۔روزنامه الفضل ربوه ۱۱ اگست ۱۹۸۰ صفحه ۱ تا ۶ )