خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 397
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۹۷ خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۷۹ء الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (النساء :۵۹) جو اہل ہیں ان کو ان کی امانتیں دو۔اہلیت خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت سے ثابت ہوتی ہے۔اہلیت خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں کی نشوونما سے ظاہر ہوتی ہے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے کہ وہ یو نیورسٹی میں فرسٹ آتا اور ریکارڈ توڑتا ہے خدا کہتا ہے جو اہل ہے اس کو اس کی امانت دو۔اس کی Appreciation کرو ایک تو یہ ہے۔پھر اگر کوئی وظیفہ فرسٹ آنے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے تو یہ کوشش نہ کرو کہ اس شخص کو نہ ملے بلکہ ہمارے کسی دوست کے بیٹے کو ملے جو فرسٹ نہیں آیا۔دنیا میں یہ ہوتا رہتا ہے۔ساری دنیا ہی گند میں ملوث ہوئی ہوئی ہے اور خدا تعالیٰ نے پھر یہ کہا کہ اہلیت کی بنا پر ہی نہیں بعض ایسے حقوق ہیں۔دراصل تو ہر حق ہی اہلیت کی بنا پر آتا ہے اور اسی کے ساتھ یہ ہے کہ بعض تو ایسے فیصلے ہیں جن کا تعلق حاکم وقت سے نہیں مثلاً یو نیورسٹی نے فیصلہ کرنا ہے۔بعض کا فیصلہ با ہمی پنچایتوں نے کرنا ہے۔باہمی گفت وشنید نے کرنا ہے۔بعض کا فیصلہ باہمی اقوام نے کرنا ہے یہ بہت ساری ایسی اہلیتیں جن کا تعلق حاکم وقت سے نہیں۔تو پہلے یہ اصول بتادیا کہ ہر اہلیت جو بھی مطالبہ کرتی ہے وہ امانت ہے اور وہ امانت حق دار کو، جو اہل ہے اسے ملنی چاہیے اور دوسرے یہ کہا کہ اپنے ملک کے اندر حاکم وقت کا یہ فرض ہے کہ انصاف اور عدل کو ہاتھ سے نہ چھوڑے اور تعصبات سے بالا ہو کر عدل کے مقام کو مضبوطی سے پکڑ کے اسلامی تعلیم کی روشنی میں وہ حکومت چلائے تا کہ ملک کے اندر خوشحالی پیدا ہو۔تعصب جو ہے میں بہت دفعہ پہلے بھی سمجھا چکا ہوں آپ کو ، یہ صرف جماعت احمدیہ کے خلاف ہی تو تعصب نہیں ہمارے ملک میں بے شمار تعصبات ہیں۔بڑی تکلیف ہوتی ہے دیکھ کے۔مثلاً ایک وقت میں ہمارے سامنے آگئے صوبائی تعصبات۔ہمارے سامنے آگئے زبان کا جو فرق ہے اس کا تعصب۔پشتو بولنے والا پنجابی بولنے والے کو پسند نہیں کرتا ، پنجابی بولنے والا پشتو بولنے والے کو پسند نہیں کرتا وہ اس کے حقوق مارنے کے لئے تیار۔یہ اس کے حقوق مارنے کے لئے تیار۔خدا نے کہا اس طرح نہیں کام چلے گا۔پھر تعصب اپنے نا اہلوں کے حق میں تعصب غیر اہل کے خلاف یہ تعصب ہے یعنی جو اہل نہیں