خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 393
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۹۳ خطبہ جمعہ ۲۸ ستمبر ۱۹۷۹ء نوعیت کی ہے۔حالات کے ساتھ یہ اجازت نہیں ہے کہ اس کے اندر کوئی تبدیلی آئے۔مثلاً الْإِحْسَانُ إِلى مَنْ اَحْسَنَ إِلَيْكَ جو شخص تم پر احسان کرتا ہے تم بھی اس پر احسان کرو۔یہ عدل ہے۔کسی حالت میں بھی یہ حکم بدلتا نہیں۔دوسری قسم کا عدل ہے۔وَ كَفُّ الْآذِيَّةِ عَمَّنْ كَفَ أَذَاهُ عَنْكَ اور جو تمہیں دکھ نہیں۔پہنچا تا تم بھی اسے دکھ نہ پہنچاؤ۔اور وہ کہتے ہیں کہ ایک عدل ایسا ہے جس میں شرع نے مناسب حال اعمال صالحہ کہتے ہیں اسے ) کام کرو۔اس میں اس کی شکل بدلتی ہے مثلاً وَ جَزْوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشوری: ۴۱) اب جتنا کوئی کسی کو دکھ پہنچائے یا کسی کو نقصان پہنچائے اسی قدر اس کو سزا دینا ، یہ حکم ہے، یہ عدل ہے لیکن یہاں قرآن کریم نے ساتھ ہی کہہ دیا۔فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ تو اس میں عدل سے زیادہ مہربانی کرنے کا ایک راستہ کھول دیا۔عدل سے کم کا راستہ کوئی نہیں کھولا قرآن کریم نے لیکن عدل سے اوپر اٹھا کے کہا۔احسان کرو تو عدل کے معنی ہیں هُوَ الْمُسَاوَاهُ فِي الْمُعَافَاتِ کسی کے عمل کے مطابق بدلہ دینا۔وہ عمل اچھا ہو ، اچھا بدلہ، بُرا ہو، برا بدلہ لیکن اسی کے مطابق۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری وہ ساری تعلیم جو میں تمہاری طرف لے کے آیا ہوں وہ اس لئے ہے کہ تمہارے درمیان عدل قائم کیا جائے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے بينكم “ کی ضمیر بنی نوع انسان کی طرف پھرتی ہے۔سورہ مائدہ میں فرما یا :۔د در ورود ،، وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى اَلَا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدة : ٩ ) يه جو ہے کسی قوم کی دشمنی اس سے ظاہر ہوا کہ یہاں جو حکم ہے وہ یہی ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کی تفریق کئے بغیر تم نے عدل کو قائم کرنا ہے کیونکہ مسلمانوں کے متعلق تو یہ فرمایا۔أَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا (ال عمران : ۱۰۴) تو مسلمان کی تو آپس کی دشمنی کو قرآن کریم تسلیم ہی نہیں کرتا کہ ایک مسلمان ، مسلمان ہوتے ہوئے دوسرے مسلمان سے دشمنی رکھے۔یہاں ذکر ہے دشمنی کا۔معلوم ہوا یہاں غیر مسلم کے متعلق بات ہے۔کسی قوم کی