خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 394
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۹۴ خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۷۹ء دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم انصاف نہ کرو۔تم عدل وانصاف سے کام لو۔اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوى عدل و انصاف تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔تقویٰ کے معنے ہیں خدا تعالیٰ کی حفاظت میں آجانا۔تو فرمایا کہ عدل اور انصاف کی راہ کو اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے تم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاؤ گے جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر تم اسلام کے دشمن سے بھی عدل اور انصاف سے کام نہیں لو گے تو تم خدا تعالیٰ کی پناہ سے نکل جاؤ گے۔اس لئے تم اللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کر یعنی اس کی پناہ ہی ہمیشہ ڈھونڈتے رہو اور کوئی دشمنی تمہیں کسی ایسے کام کے کرنے پر مجبور نہ کرے کہ جس کے نتیجہ میں تم خدا تعالیٰ کی پناہ سے باہر نکل جاؤ اور خدا تعالیٰ کے دربار سے دھتکارے جاؤ۔پھر حضور انور نے فرمایا:۔وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى (الانعام :۱۵۳) جب کوئی بات کہو تو خواہ وہ شخص جس کے متعلق بات کی گئی ہے تمہارا قریبی ہی ہو ( یعنی تعصب اس کے حق میں بھی آسکتا ہے) تعصب نہ آنے دو۔عدل و انصاف سے کام لے کے بات کرو اور اگر ایسا کرو گے وَ بِعَهْدِ اللهِ اوفوا (الانعام : ۱۵۳) تو خدا نے جو عہد لیا ہے تم سے جو فرائض تم پر عائد کئے ہیں تم ان کو پورا کرنے والے ہو گے۔اگر ایسا نہیں کرو گے، اگر اپنوں کے لئے حق وانصاف کی بات کو چھوڑ دو گے تو خدا تعالیٰ کے عائد کردہ فرائض کو توڑنے والے ہو گے اس عہد کو نباہنے والے نہیں ہو گے خیانت کرنے والے ہو جاؤ گے۔پھر اللہ تعالیٰ سورۃ نحل میں فرماتا ہے۔( جو آیت میں نے لی وہ تو دوسرے مضمون کا حصہ ہے )۔هَلْ يَسْتَوِى هُوَ وَ مَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ هُوَ عَلَى صِرَاطٍ مسْتَقِيمٍ (النحل ۷۷) مفہوم میں نے پہلی آیتوں کا لیا ہے تا کہ اگلا مفہوم واضح ہو جائے۔اللہ تعالیٰ دو شخصوں کی حالت بیان کرتا ہے جن میں سے ایک تو گونگا ہے جو کسی بات کی طاقت نہیں رکھتا۔میں کہا کرتا ہوں کہ ہمارے ملک میں شرافت گونگی ہے۔آواز نہیں نکلتی شرافت کے حق میں۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دو شخصوں کی حالت بیان کرتا ہے اللہ۔جن میں سے ایک تو گونگا ہے جو کسی بات کی طاقت نہیں رکھتا اور وہ اپنے مالک پر بے فائدہ بوجھ ہے۔جدھر بھی اس کا آقا