خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 296
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۹۶ خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۷۹ء الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا القِيَامَ إِلَى الَّيْلِ ۚ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَاَنْتُمْ عَكِفُونَ فِي الْمَسْجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ التِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ۔(البقرة : ۱۸۴ تا ۱۸۸) اور پھر حضور انور نے فرمایا:۔قرآن کریم کا ہم ترجمہ کرتے ہیں۔اس کا مفہوم بیان کرتے ہیں اور اس کی تفسیر بتاتے ہیں۔اس کے مفہوم کو سمجھنے کے لئے اور اس کی تفسیر سے فائدہ اٹھانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ترجمے کو اچھی طرح سمجھنے والے ہوں۔رمضان کا جو درس دیا جاتا ہے اس میں زیادہ تر تفسیر پر زور ہوتا ہے۔ہمارے وہ پرانے احمدی جن کے سامنے قرآن کریم کا ترجمہ بار بار آیا وہ تو اس تفسیر سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن جماعت میں نئے داخل ہونے والے یا نئے نوجوان ہونے والے بچے جو درس میں شمولیت کی عمر کو پہنچے ہیں، ان کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کے سامنے ترجمہ اس طرح رکھا جائے ( قرآن کریم کا) کہ ترجمے کو وہ سمجھنے لگیں اور اس کے مفہوم سے آگاہ ہوں۔اس کی طرف صرف رمضان کے مہینے میں خاص توجہ دے کے بقیہ مہینوں میں بے تو جبکی سے کام لینے سے تو کام نہیں بنتا جو طریق اس وقت رائج ہے مختلف دوست درس دیتے ہیں وہ تو اسی طرح رائج رہے گا لیکن میں یہ توجہ دلانا چاہتا ہوں جماعت کو کہ بچوں کے سامنے اور نئے آنے والوں کے سامنے یا نٹے سیکھنے والوں کے سامنے قرآن کریم کا ترجمہ وضاحت سے بیان کر دینا چاہیے۔یہ ایک لمبا سلسلہ جو درس کا شروع ہو جائے گا اس کی ابتدا اس خطبہ سے میں کرنا چاہتا ہوں اور اس مہینہ کی نسبت سے روزوں کے متعلق جو آیات ہیں وہ میں نے ابھی تلاوت کی ہیں وہاں سے شروع کروں گا۔آیات کی تو میں نے تلاوت کر دی، ان کا ترجمہ تفسیر صغیر کے ترجمہ کی روشنی میں یہ ہے يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اے لوگو! جو ایمان لائے ہو خدا اور اس کے رسول اور اس عظیم کتاب پر تم پر