خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 259
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۵۹ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۹ء اموالھم کی ضمیر اس آیت میں میرے نزدیک جو میں اب معنی کر رہا ہوں جیسا کہ میں نے بتایا بہت سے بطون ہیں وَفِي اَمْوَالِهِمْ وہ لوگ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ کہا ہے نا۔وہ لوگ جن کو ہم نے دوسروں پر فضیلت دی۔انہوں نے تجارت کی اور تجارت کے مال بڑے اکٹھے کر لئے۔انہوں نے زراعت کی اور بڑی آمد پیدا کی اپنی زمین سے۔انہوں نے کارخانے لگائے اور وہ Millionaire بن گئے وغیرہ وغیرہ۔دنیوی لحاظ سے انہوں نے دولتیں اکٹھی کیں۔وہ ذہین تھے ان کو اپنے ذہنوں کی نشوونما کے سامان ہم نے دیئے تھے ان کو انہوں نے استعمال کیا اور سائنس کے میدان میں اور دوسرے علوم کے میدان میں آسمانوں کی رفعتوں تک پہنچ گئے اور اس ذریعہ سے انہوں نے دنیوی اموال بھی کمائے۔محاورہ ہے ے کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی کہ کمال حاصل کرو دنیا کی عزت بھی حاصل ہو جائے گی اور دنیا کے اموال بھی حاصل ہو جائیں گے۔ان لوگوں کے اموال میں ایک تو یہ گروہ ہو گیا نا۔ایک دوسرا گر وہ ہے جو سائل بھی ہے اور محروم بھی ہے۔جس کو ان حقوق کا جو خدا تعالیٰ نے اس کے قائم کئے ہیں علم بھی ہے اور اسے مل نہیں رہے اور وہ ان کا مطالبہ کرتا ہے اور وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ کے قائم کردہ حقوق کا علم نہیں اس واسطے مطالبہ ہی نہیں کر سکتا اور وہ خاموش ہے اور محروم ہے۔اس کو پتا ہی نہیں میرے حقوق کیا ہیں۔جیسا کہ اس وقت یہ جو ترقی یافتہ مہذب قومیں ہیں ان کے مزدوروں کو کچھ پتا نہیں کہ ان کا حق کیا ہے اور میں ان سے مذاق میں ہنسی میں مسکراتے چہروں کے ساتھ بات کرتا تھا اور یہ حقیقت ان کے سامنے رکھتا تھا کہ یہ عجیب بات ہے کہ تمہارا مزدور اپنے حق کے حصول کے لئے سٹرائیک کرتا ہے اور اس کو یہ پتا نہیں کہ اس کا حق کیا ہے۔یہ عجیب چیز بن گئی نا! کہ جس چیز کا اس کو علم ہی نہیں اس کے حصول کی وہ کوشش کر رہا ہے۔تو حاصل کیسے کرے گا جس کا علم ہی نہیں اس کو۔تو محروم ہے وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ ان کا حق ہے ان کے مال میں جن کو خدا نے دیا۔مختلف طریقوں سے دیا کسی کو تجارت کا ملکہ دیا کسی کو زراعت کرنے کی صلاحیت عطا کی۔کسی کو استعدادیں دیں اور صلاحیتیں دیں علوم کے حاصل کرنے میں۔مختلف طریقوں سے اس نے