خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 258
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۵۸ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۹ء نے اس کا قائم کیا اس کا مطالبہ کرتا، اس کے حصول کے لئے کوشش کرتا ہے۔جو شخص اس حق کو ادا کرنے والا ہے وہ ظاہری طور پر کھلم کھلا ادا کرتا ہے نا۔مانگنے والے نے بھی کھلے طور پر کہا مطالبہ کیا۔مانگنے والا نہیں مطالبہ کرنے والے نے ظاہراً مطالبہ کیا، جہراً مطالبہ کیا میرے یہ حقوق خدا تعالیٰ نے قائم کئے ہیں میرے حقوق ادا کرو۔تو خدا تعالیٰ یہاں یہ فرماتا ہے کہ ایسا شخص ہمارا بندہ جو ہمارے رزق کو رِزْقًا حَسَنًا سمجھتا اور اس کے نتیجہ میں وہ حقوق العباد جو ہیں وہ ان کو ادا کرتا اور جن کو نہیں ملے ہوئے حقوق اور جو پہچانتے ہیں اپنے حقوق کو جو خدا تعالیٰ نے قائم کئے کھلم کھلا ان کے او پر خرچ کرتا ہے اور کہتا ہے میں نہیں دیتا حق ہے تمہارا لے لو اپنا حق خدا نے اسے قائم کیا ہے۔اور بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے حقوق ہی نہیں پہچانتے اس وجہ سے وہ حقوق کے حصول میں محروم ہوتے ہیں۔تو یہ شخص جو ہے خدا کا بندہ وہ سزا بھی خرچ کرتا ہے ان کو اپنے حق کا نہیں پتا اور لوگوں کے حقوق کی جو ادائیگی یہ شخص کر رہا ہے اس کا نہیں علم۔دونوں باتیں چھپی ہوئی ہیں۔ان کے سامنے ان کے حقوق ظاہر نہیں اور لوگوں کے سامنے حقوق کی ادائیگی ظاہر نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ دنیا کا غلام اور یہ اللہ کا بنده هَلْ يَسْتَونَ یہ برا بر ہو سکتے ہیں؟ یہ برابر نہیں۔ایک زمین کا کیڑا، ایک کو خدا تعالیٰ نے اپنے پیارے ہاتھوں سے اٹھا کر اپنی رفعتوں تک پہنچایا اور اپنی گود میں لے لیا پیار کے ساتھ۔یہ دونوں برابر کیسے ہو سکتے ہیں۔الحَمدُ لِلَّهِ (النحل : ۷۶) اصل بات تو یہی ہے کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں۔اسی کی طرف دوسری آیت میں اشارہ کیا یتم نِعْمَتَهُ عَلَيْكُم (النحل: ۸۲) اللہ تعالیٰ نے یہ ساری دنیوی نعمتیں پوری کر دیں تمہارے اوپر۔ویسے اس میں روحانی بھی ہیں لیکن اس کے ایک حصہ کو میں نے اس فقرہ میں لیا ہے يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلیکم اس نے ساری کی ساری نعمتیں اور رحمتیں جن کی تمہاری فطرت تقاضا کر رہی تھی ، وہ تمہیں دے دیں۔لَعَلَّكُمْ تُسلِمُونَ اس لئے دیں کہ تم میری ان نعمتوں سے حقیقی مسلمان بننے کی کوشش کرو۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَفِي اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاريات : ٢٠) - وَفِي