خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 212
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۱۲ خطبہ جمعہ ۸/جون ۱۹۷۹ء خیر خواہی سے باہر نہیں چھوڑا۔پہلے بھی میں نے بتایا تھا کہ ہر چیز کے حقوق اسلام نے قائم کئے اور ان کی حفاظت کا سامان پیدا کیا۔اس کے مطابق تعلیم دی اور ہمیں حکم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔یہ ہمارے لئے حکم ہے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم اور فساد کو دور کرنے کی کوشش کر وظلم اور فساد پیدا کر کے نہیں بلکہ ظلم اور فساد سے بچتے ہوئے ظلم اور فساد کو دور کرنے کی کوشش کرو۔آپ نے فرمایا کہ اگر تم ہاتھ سے کسی کو ظلم سے روکنے کے نتیجہ میں ایک اور ظلم پیدا کرنے کا موجب بن جانے کا خطرہ محسوس کر و تو ہاتھ سے ظلم نہ روکو بلکہ دعا کرو اس وقت۔اگر مادی سامان تمہارے پاس نہ ہوں یا تم سمجھو کہ اس کے استعمال سے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے مادی سامان چھوڑ دو، روحانی سامان سے کام لو۔روحانی تدا بیر کرو۔اپنے خدا کے حضور جھکو اپنے خدا کے حضور التجا کر وتضرع سے دعا کرو کہ اے خدا بنی نوع انسان کی بھلائی کے سامان پیدا کر۔بنی نوع انسان کی بھلائی ایک قسم کی بھی ہے ہزار قسم کی بھی ہے دعا کرو کہ ہر قسم کی بھلائی انہیں ملے اور جو فساد اور جو ظلم آپ کو نظر آرہے ہوں ان کا نام لے کے خدا سے کہو۔آج کی دنیا میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ انسان انسان سے پیار نہیں کرتا۔انسان انسان سے برسر پیکار ہے۔گورا کا لے سے لڑ رہا ہے، کالا گورے سے لڑ رہا ہے۔رنگ کا امتیاز فساد اور ظلم کا موجب اور حق تلفی کا باعث بن رہا ہے۔سفید فام، سیاہ فام سے لڑ رہا ہے جو گندمی رنگ والے ہیں وہ گندمی رنگ والوں سے لڑ رہے ہیں جو افریقہ کے رہنے والے ہیں وہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔عیسائی ہیں وہ عیسائیوں سے لڑ رہے ہیں اور دوسرے مذاہب والے آپس میں ہم مذہبوں سے لڑ رہے ہیں۔اس وقت انسان ، انسان پر ظلم کر رہا ہے انسان ،انسان کے لئے تکلیف کے سامان پیدا کر رہا ہے۔اسے دُکھ پہنچانے کے سامان پیدا کر رہا ہے اور ہم ہاتھ سے اسے روکنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے۔جماعت احمدیہ کو میں مخاطب کر رہا ہوں اور ہم سے مراد ہے جماعت احمد یہ۔ہم ہاتھ سے ظلم روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔جہاں ہم ہاتھ سے ظلم روکنے کی طاقت رکھتے ہیں وہاں اس وجہ