خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 132
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۳۲ خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۷۹ء ہے۔اس وقت میں نے تین چار باتیں اصولی جو ہیں ان کو منتخب کیا ہے اس وقت کے خطبہ کے لئے۔ایک یہ کہ انسان میں جو قوت اور طاقت ہے وہ اپنے نفس میں ایسی نہیں جو اسے خدا تعالیٰ تک پہنچا دیتی۔انسان کی ساری نیکی کی طاقتیں بھی اس کے لئے بدی بن سکتی ہیں۔اس میں کبر پیدا کر کے، اُس میں نخوت پیدا کر کے، اس میں ریا پیدا کر کے، اس میں جذ بہ نمائش پیدا کر کے، اس میں اپنے نفس کی پوجا کر کے اور پرستش کے جذبات پیدا کر کے، اس کی نیکیاں جو ہیں ان کے اندر وہ خود شرک کی ملاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔اس لئے چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو نیکی کی طاقتیں بھی دیں ان کا بھی وہ غلط استعمال کر سکتا تھا۔وہ انتہائی عاجزانہ نمازیں پڑھنے کے بعد بظاہر جو ہمیں نظر آتی تھیں خشوع اور تضرع کے ساتھ دعائیں کرنے والا لیکن اس کی روح اس میں غائب بھی ہو سکتی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس ضعف سے بچانے کے لئے اور آسانی کو پیدا کرنے کے لئے یہ انتظام کیا کہ اس کے لئے قبولیت دعا کے دروازے کھولے گئے اور اسے یہ حقیقت سمجھائی گئی کہ جو اعمال صالحہ بجالانے کی تمہیں طاقتیں عطا کی گئی ہیں ان کے ذریعہ سے محض تم خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ساری نیکیاں کرنے کے بعد بھی تم خدا تعالیٰ کے دربار سے دھتکار دیئے جاؤ سوائے اس کے کہ تم اپنی عاجزانہ دعاؤں سے خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والے ہو۔اگر تم اپنی نیکیوں کی قبولیت کے لئے عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے اور یہ دروازہ تمہارے لئے کھلا ہے تو پھر تمہاری نیکیاں اس کے حضور قبول ہوں گی اور تم اس کے پیار کے مستحق ہو گے اور تمہیں اس کا ثواب ملے گا۔تو قبولیتِ دعا کے نتیجہ میں ہماری راہ کو اللہ تعالیٰ نے آسان کر دیا۔ہمارے بوجھ کو ہلکا کر دیا ورنہ یہ بوجھ ضعیف انسان کیسے اٹھا سکتا تھا کہ اپنے اعمال سے خدا تعالیٰ کو ثواب دینے اور پیار کرنے پر مجبور کر سکتا۔تو پہلا اصول اس نے اس آسانی کے پیدا کرنے کا یہ بنایا کہ دعائیں کرو اور میرے فضل کو جذب کرو تا کہ میں تمہاری نیکیوں اور تمہارے اعمال صالحہ میں جو کمزوریاں اور خامیاں رہ گئی