خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 92 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 92

خطبات ناصر جلد ہشتم ۹۲ خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۷۹ء ایک اور بات کا بھی پتا چلتا ہے وہ یہ کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کی وجہ سے نہ پوچھا جائے گا اور نہ ہی کسی دوسرے کے گناہ کی وجہ سے اس کا مؤاخذہ ہو گا خواہ وہ گنہگار قریبی ہو یا قریبی نہ ہو۔ابن جریر ایک مشہور مفسر ہیں اپنی تفسیر جامع البیان میں وہ لکھتے ہیں :۔وَ مَعْنى قَوْلِهِ جَلَّ ثَنَاؤُهُ إِنَّا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، إِنَّا اَرْسَلْنَكَ يَا مُحَمَّدُ بِالْإِسْلَامِ الَّذِئ لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ غَيْرَةُ مِنَ الْأَدْيَانِ وَهُوَ الْحَقُّ مُبَشِّرًا مَنِ اتَّبَعَكَ فَأَطَاعَكَ وَقَبِلَ مِنْكَ مَا دَعْوَتَهُ إِلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِالنَّصْرِ فِي الدُّنْيَا وَالظُّفْرِ بِالثَّوَابِ فِي الْآخِرَةِ وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ فِيْهَا وَ مُنْذِرًا مَنْ عَصَاكَ فَخَالَفَكَ وَ رَدَّ عَلَيْكَ مَا دَعَوْتَهُ إِلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِالْخِزْيِ فِي الدُّنْيَا وَالذُّلِّ فِيْهَا وَالْعَذَابِ الْمُهِيْنِ فِي الْآخِرَةِ ( وَلَا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحَب الْجَحِيمِ ) وہ کہتے ہیں اس کے معنے ہیں کیا مُحَمَّدُ إِنَّا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا فَبَلَغْتَ مَا أُرْسِلْتَ بِهِ وَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَ الْإِنْدَارُ وَلَسْتَ مَسْئُولًا عَمَّنْ كَفَرَ بِمَا آتَيْتَهُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ وَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَحِیمِ۔وہ کہتے ہیں کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اے محمد ! ہم نے تجھے اس دین اسلام کے ساتھ بھیجا ہے جس کے سوا میں کسی اور دین کو کسی سے قبول نہیں کروں گا اور دینِ اسلام حق ہے۔جو شخص تیری پیروی کرے، تیری اطاعت کرے اور جس حق کی تو نے اسے دعوت دی ہے اسے وہ قبول کرے تو یہ حق جو ہے وہ اسے بشارت دیتا ہے کہ دنیا میں اس کی مدد کی جائے گی اور آخرت میں اسے ثواب دیا جائے گا اور اسے دائمی نعمتوں سے نوازا جائے گا۔اس کے برعکس جو تیری بات نہ مانے ، تیری مخالفت کرے اور جس حق کی طرف تو نے اسے دعوت دی ہے اسے وہ رد کر دے تو اسے یہ حق جو ہے وہ تنبیہ کرتا ہے کہ اسے دنیا میں ذلت پہنچے گی اور وہ خوار ہوگا اور آخرت میں اسے ذلت آمیز عذاب دیا جائے گا۔وَلَا تُسْتَل عَنْ أَصْحَب الْجَحِيمِ کہتے ہیں پس معنی یہ ہوئے کہ اے محمد ! ہم نے تجھے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔پس جو پیغام تجھے دیا گیا تو نے وہ پہنچا دیا اور تیرا کام پہنچا دینا اور تنبیہ کر دینا ہے اور تجھ سے ان لوگوں کے متعلق سوال نہ کیا جائے گا جنہوں نے اس حق کا انکار کیا جو تو