خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 93
خطبات ناصر جلد هشتم ۹۳ خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۷۹ء ان کے پاس لے کر آیا اور وہ دوزخیوں میں شامل ہو گئے۔تیسرا حوالہ میں نے لیا ہے امام قرطبی کی تفسیر سے۔وہ اپنی تفسیر ” الجامع لاحکام القرآن“ میں لکھتے ہیں کہ الْمَعْنَى إِنَّا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا غَيْرَ مَسْئُوْلٍ۔کہ ہم نے تجھے بشیر اور نذیر کر کے بھیجا ہے اور تجھ سے ان لوگوں کے بارہ میں پوچھ کچھ نہ ہوگی ، باز پرس نہ کی جائے گی۔علامہ محمودالوسی کی ایک مشہور تفسیر ہے روح المعانی اس میں اس آیت کی تفسیر یوں آئی ہے۔إِنَّا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ أَيْ مُتَلَبِّسًا مُؤَتِدًا بِه۔۔۔وَ الْمُرَادُ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ لِأَنْ تُبَشِّرَ مَنْ أَطَاعَ وَ تُنْذِرَ مَنْ عَلى لَا لِتُجْبِرَ عَلَى الْإِيْمَانِ فَمَا عَلَيْكَ إِنْ أَصَرُّوا وَكَابَرُوا - اور وہ ولا تسل کے متعلق کہتے ہیں آئی اَرْسَلْنَكَ غَیرَ مَسْئُولٍ عَنْ أَصْحُبِ الْجَحِيمِ مَا لَهُمْ لَمْ يُؤْمِنُوا بَعْدَ اَنْ بَلَّغْتَ مَا أُرْسِلْتَ بِهِ وَ الْزَمْتَ الْحُجَّةَ عَلَيْهِمْ۔وہ کہتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے تجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور اس کے ذریعہ تیری تائید کی گئی ہے اور کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ اے رسول ہم نے تجھے اس لئے بھیجا ہے تاتو ان کو جو اطاعت اختیار کریں خوشخبری دے اور جو نافرمانی کریں تنبیہ کرے۔تجھے اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ تو کسی کو ایمان لانے پر مجبور کرے۔(یہاں میں یہ زائد کروں گا کہ اَصْحَبُ الْجَحِيمِ کے جو قر آن کریم نے تین گروہ بیان کئے تھے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ تجھے اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ تو کسی کو ایمان لانے پر مجبور کرے یا کسی کو ایمان کے تقاضوں کے پورا کرنے پر مجبور کرے کہ وہ نفاق کی راہوں کو اختیار نہ کریں یا کسی کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ ایمان لانے کے بعد ارتداد اختیار نہ کریں)۔پس اگر وہ کفر پر اصرار کریں یا نفاق کی راہوں کو اختیار کریں یا ایمان لانے کے بعد ارتداد اختیار کریں اور فضول جھگڑا کریں تو اس میں تیرا کوئی نقصان نہیں اور تجھ پر کوئی الزام نہیں۔شیخ اسماعیل حقی کی تفسیر ہے روح البیان ، وہ لکھتے ہیں :۔انا ارسَلْنَك حَالَ كَوْنِكَ مُلْتَبِسًا بِالْحَقِّ مُوَيْدًا بِهِ وَالْمُرَادُ الْحُجَجُ وَالْأَيَاتُ وَسُمِّيَتْ بِهِ لِتَأْدِيَتِهَا إِلَى الْحَقِّ بَشِيرًا حَالَ كَوْنِكَ مُبَشِّرًا لِمَنِ اتَّبَعَكَ۔۔۔وَنَذِيرًا