خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 841 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 841

خطبات ناصر جلد ہشتم ΔΕΙ خطبه جمعه ۲۶ دسمبر ۸۰ ١٩٨٠ء چنانچہ چند سالوں کے اندر خدا تعالیٰ کے یہ فدائی ، ہدایت یافتہ ، ہدایت پر قائم ، نیکیاں کرنے والے، بدیوں سے بچنے والے، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے لا إِلهَ إِلَّا الله کا ورد کرنے والے جو تھے وہ کامیاب ہو گئے اور سارا سپین اسلامی مملکت میں آگیا اور عدل اور انصاف جو پہلے وہاں نہیں تھا وہ قائم ہو گیا اور وہ لوگ جو مسلم نہیں تھے ، جن کا اسلام سے تعلق نہیں تھا انہوں نے بڑی خوشیاں منائیں کہ بڑی دیر کے بعد ہمیں ضمیر کی آزادی ملی۔ہمیں اقتصادی لحاظ سے آزادی ملی ، ہماری عرب تیں قائم کی گئیں۔اسی سفر میں غرناطہ ایک جگہ ہے۔وہاں ایک بہت پرانامحل ہے۔بڑا خوبصورت وہ آخری شہر جس نے جب شکست کھائی تو سارے سپین سے مسلمانوں کو مٹادیا گیا۔وہاں ایک کھڑکی میں ہم کھڑے دیکھ رہے تھے تو ہمارا جو گائیڈ تھا وہ کہنے لگا وہ سامنے پہاڑ میں آپ کو غار میں نظر آتی ہیں۔ان کے اندر جیسیز (Gepsies) رہتے ہیں اور وہ کہنے لگا ( وہ کہتا تھا کہ میں عرب خاندان کا عیسائی ہوں۔زبردستی ہمیں عیسائی بنالیا گیا تھا اس وقت ) کہ ان جیسیز کو اس وقت شرف انسانی ، عزت اور احترام ملا جب مسلمان یہاں کے حاکم بن گئے اور مسلمان حکومت میں ان پر زبردستی نہیں کی نہ مذہب میں نہ ان کی عادات میں ، نہ رہن سہن کے طریقے میں۔انہوں نے کہا ہم ان غاروں میں رہیں گے مسلم حکومت نے کہا ٹھیک ہے وہیں رہو، تم انسان ہو تمہاری بہر حال عزت کی جائے گی تمہارا احترام کیا جائے گا اور پہلے بھی عیسائی حکومت کے ماتحت اور بعد میں بھی عیسائی حکومت کے ماتحت ان لوگوں کو وہ عزت نہیں ملی جو خدا چاہتا ہے کہ انسان ، انسان سے سلوک کرے اور جو قرآن کریم میں بیان ہوا کہ آپس میں باہمی پیار اور محبت کے ساتھ اس طرح رہنا چاہیے اس کے مطابق مسلمانوں نے زندگی گزاری اور اس کے مطابق انہوں نے وہاں حکومت بھی کی اور تھوڑے ہوتے ہوئے کثرت پر بھاری ہوئے خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں سے کیونکہ ان کے دل خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت جسے محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم لے کر آئے پر تھے، اور فدائی تھے خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ان کی ذہنیت یہ تھی کہ اِفْعَلُ مَا