خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 842
خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۴۲ خطبه جمعه ۲۶ دسمبر ۱۹۸۰ء تُؤْمَرُ ( الصفت : ۱۰۳) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے صاحبزادے سے یہ پوچھا کہ یہ میں نے خواب دیکھی ہے تو بتاؤ تم کیا کہتے ہو؟ بڑا عجیب جواب ہے جو انہوں نے دیا یہ نہیں کہا کہ اگر آپ نے خدا تعالیٰ کا منشایہ معلوم کیا اپنی رویا میں کہ مجھے ذبح کر دیں تو ذبح کر دیں۔حضرت اسماعیل نے یہ جواب دیا کہ اِفْعَلْ مَا تُو مر جو بھی خدا تعالیٰ کا حکم ہے وہ کرو۔اِفْعَلُ مَا تُؤْمَرُ انسان کی نیت بتا تا ہے، انسان کا تقویٰ بتاتا ہے، خدا کے لئے انسان کی محبت بتاتا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کردہ محسن اور نور بتاتا ہے۔اِفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ“ وہ ہے جو اسلام ایک مسلمان میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔پھر کچھ عرصے کے بعد بگاڑ پیدا ہوا اور وہ لوگ ہدایت پر اس طرح قائم نہ رہے جس طرح اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ وہ ہدایت پر قائم رہیں۔جب تھوڑے تھے اکثریت پر غالب آئے۔جب بہت ہو گئے تو مقابلہ نہ کر سکے اور ایک شہر کے بعد دوسرا شہر عیسائیوں نے فتح کرنا شروع کیا اور اتنا دکھ ہوتا ہے پڑھ کے ان کی تاریخ کو کہ جب عیسائی حملہ کرتے تھے کسی مسلمان شہر پر تو کسی علاقے کے مسلمان نواب صاحب عیسائیوں کے ساتھ مل کے اس شہر کو فتح کرنے میں ان کے محمد ہوتے تھے اور وہ عیسائیوں کے ہاتھ میں چلا جاتا تھا۔قرطبہ بھی جو آج سے سات سو چوالیس سال پہلے فتح کیا گیا اور عیسائیوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔اس وقت بھی ایک بہت بڑے علاقے کے مسلم حاکم عیسائیوں سے ملے ہوئے تھے اور مسلمانوں کے خلاف انہوں نے قرطبہ کے اوپر چڑھائی کی اس لئے تا کہ قرطبہ جو مسلمانوں کا علاقہ ہے وہ عیسائیوں کے ہاتھ میں چلا جائے۔قرآن کریم کے سارے احکام ایسے ہیں جن پر ہمیں عمل کرنا چاہیے۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَ لَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُم اعْدَاء فَأَلْفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا (ال عمران : ۱۰۴) اس حکم کو توڑ دیا۔خدا نے بھائی بھائی بنایا تھا۔خدا نے اس اخوت کو ، اس اتحاد روحانی اور جسمانی کو اپنی نعمت قرار دیا تھا اور حکم یہ تھا کہ یہ خدا کی رسی ہے اسے مضبوطی سے پکڑو، گرفت جو ہے وہ ڈھیلی نہ ہو جائے