خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 815
خطبات ناصر جلد هشتم ۸۱۵ خطبه جمعه ۲۸ / نومبر ۱۹۸۰ء ہے اس کے مطابق وہ کرتی ہے۔کبھی پتھروں نے بغیر پر کے ہوا میں پرندوں کی طرح اڑنے کی خواہش نہیں کی وہ اپنی جگہ پڑے ہوئے ہیں۔پرندے اپنا کر رہے ہیں۔ساری دنیا سوچو ذرا ساری دنیا کا سوچا کرو۔تو ذکر جو ہے وہ ساری عبادات کی بنیاد ہے اور کوئی قید نہیں کہ جسم کو اس طرح کھڑا کرو۔نیت باندھ لیتے ہیں نا ہم ، قید ہے ایک نماز کی۔آپ جو فرض نماز یا اسی قسم کے نوافل یاستیں ہیں وہ یہ نہیں کر سکتے کہ جی ہم لیٹے لیٹے پڑھ لیں گے نہیں کرنا پڑے گا وہ۔لیکن ذکر جو ہے کوئی شرط نہیں ہے، کوئی قید نہیں ہے۔صرف قید یہ ہے کہ اپنی زندگی کا ہرلمحہ میری یاد میں گزار و اور میری ہر نعمت مجھ سے پالو۔بڑا عظیم وعدہ ہے لیکن کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا، کچھ محنت کرنی پڑتی ہے، کچھ عادت ڈالنی پڑتی ہے، کچھ سوچنا پڑتا ہے، خدا کی عظمتوں کا سامنے خیال لانا پڑتا ہے۔انسانی تاریخ میں وہ عظمتیں آئیں۔ہمارے آقا اور محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک یتیم ، غریب مسکین بچہ خدا نے کہا تھا کہ میں نے تجھے ہر دو جہاں کا بادشاہ بنا دیا۔بنا دیا، بنے نہیں ؟ کون سی طاقت تھی آپ کے پیچھے؟ کوئی مادی طاقت تو نہیں کوئی جتھہ نہیں تھا کوئی سیاسی طاقت نہیں تھی۔خدا کا وعدہ تھا اور اس وعدے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذرہ ذرہ قربان تھا اور اپنی عظمتیں پالینے کے بعد اپنے خدا سے اعلان یہی کیا کہ جنت میں اپنے عمل سے نہیں جاؤں گا خدا کے فضل اور اس کی رحمت سے جاؤں گا۔ہمیں بڑا سبق دیا یعنی آپ کے لئے یہ خطرہ تو نہیں تھا کہ کوئی ایسا عمل کر دیں کہ خدا ناراض ہو جائے۔یہ تو ویسے انسانی عقل کے لئے ممکن چیز نظر نہیں آتی لیکن خدا کی عظمتیں اپنی جگہ پر قائم تھیں۔اپنے ان عظمتوں والے رب سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا اپنی جگہ پر قائم تھا۔عبودیت کی عبد ہونے کی نسبت اپنی جگہ پر قائم ہر چیز کو اپنی جگہ پر رکھا۔غلطی کہیں نہیں کی آپ نے اپنی زندگی میں۔ہمارے لئے تبھی اُسوہ بن گئے نا ہم میں سے ہر ایک کے لئے۔قرآن کریم نے بتایا ہے بڑی اہم چیز ایک بتائی۔قرآن کریم کہتا ہے کہ انسان کو اپنی ترقیات کے لئے یا اپنے تنزل کے لئے دو جگہ بہر حال تعلق پیدا کرنا پڑے گا۔ذکر الہی سے خدا سے تعلق پیدا کر لے یا، یا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَيْضُ لَهُ شَيْطَئًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ -