خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 806 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 806

خطبات ناصر جلد هشتم ۸۰۶ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۸۰ء اپنے ماحول کو صاف کرنے کے لئے ہو اس پر عمل کرنے والی جماعت ہے۔میں دعا کرتا ہوں اور دیکھوں گا یہ کام میرا ہے۔یہ بھی ایک کام ہی ہے کہ دیکھوں، آپ کی رپورٹیں پڑھوں کہ کتنے محلوں نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ہفتے کو کل ہفتہ ہے نا، اگلا ہفتہ جو ہے اس کو یا ایک دو دن بعد اگر میں باہر ہوں تو میرے پاس پہلی رپورٹ آجائے صفائی کے متعلق خدام وانصار کی طرف سے۔بیرونی جماعتیں اب یہ اتنا کام ماشاء اللہ ہو گیا ہے کہ جور بوہ کے رضا کار ہیں وہ کچھ اپنی ضرورتوں کے لئے کوئی ہوگا ایسا نالائق کہ جو ویسے کام سے بھاگ جاتا ہوگا لیکن ایک گھر میں بھی پچاس مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں تو وہ ان کا بچہ اگر پانچ بچے ہیں اور دو غائب ہو گئے غیر حاضر ہو گئے جلسے کی ڈیوٹی سے تو دراصل تو جلسے کی ڈیوٹی سے وہ غیر حاضر نہیں ہوئے اگر وہ اپنے گھر میں کام کر رہے ہیں۔اگر وہ کام کر رہے ہیں بہر حال اگر وہ سارے آبھی جائیں تب بھی یہ اتنا بڑا ( کام ہے ) خدا کے نام پر اور اسلام کے غلبہ کی باتیں سننے کے لئے اور سوچنے کے لئے اور دعائیں کرنے کے لئے اور عاجزانہ خدا کے حضور جھک کر خدا کو کہنے کے لئے کہ اے خدا ہم ایک ذرہ ناچیز کی بھی حیثیت نہیں رکھتے مگر تیرے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے وعدوں کے مطابق ہم سے سلوک کر اور اپنے لئے کچھ نہیں مانگتے تیری وحدانیت کو دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور محبت کو دلوں میں گاڑنا چاہتے ہیں۔اس میں کامیاب کر دے۔بیرونی جماعتیں بھی رضا کار بھجواتی ہیں کافی تعداد میں۔جو افسر جلسہ سالانہ ہیں انہوں نے صرف اتنا لکھ دیا ہے کہ چار پانچ رضا کا رد ہیں۔ظاہر ہے چار پانچ نہیں ان کا مطلب شاید چار پانچ ہزار ہو تو اس واسطے میں یہ کہوں گا کہ جتنے چاہیں اتنے آپ مہیا کر دیں لیکن ایسے بھیجیں کہ جو جذ بہ رکھتے ہوں اور شوق رکھتے ہوں۔رضا کارانہ کام جو ہے یہاں یہ باندھتا ہے۔بہت سارے آدمی ہیں وہ بندھنا پسند نہیں کرتے۔مثلاً ایک کا کام ہے بیٹھے رہو دفتر میں۔افسر جلسہ سالانہ میں آپ رہا ہوں۔ایک دو آدمی ایسے ہوتے تھے ان کو یعنی مجھے ڈھونڈنا پڑتا تھا وہ مزاج کہ دفتر سے غیر حاضر نہیں ہو نا مثلاً میں کبھی لنگر ایک میں جا رہا ہوں کبھی دو میں جار ہا ہوں، تین میں جارہا ہوں۔اگر دفتر میں جس کو میں نے بٹھایا ہے وہ بھی غیر حاضر ہو جائے ، تو باہر سے کوئی مہمان آئے گا وہ تو یہی کہے گا