خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 805
خطبات ناصر جلد هشتم ۸۰۵ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۸۰ء ہمارے لئے کوئی جگہ نہیں۔ویسے تو اللہ فضل کرے گا نکل ہی آتی ہے جگہ اور دوسرے جور بوہ کے ایسے گھرانے ہیں ، گھر ہیں میں یہ نہیں کہوں گا کہ جن کے پاس پیسہ ہے بڑے بڑے مکان بنالئے ابوظہبی اور وہاں گئے بڑے پیسے کمائے مکان بن گئے۔میں وہ نہیں کہوں گا، میں کہوں گا جن کے دلوں میں اخلاص ہے وہ میرے مخاطب ہیں۔اس بات کے لئے تیار رہو کہ اگر ہمیں جلسہ کے لنگر کا ایک حصہ تمہارے باورچی خانے میں کھولنا پڑے تو تم جماعت احمدیہ کے نظام سے تعاون کرو گے۔دوسرے صفائی اور ایک سادگی سے سجاوٹ جو ہے وہ ہر سال ہوتی ہے اور ہر سال یاددہانی بھی میں کرا تا ہوں ثواب حاصل کرنے کے لئے۔خدام وانصار اور لجنہ دونوں کو میں کہتا ہوں کہ آج کے بعد سے ربوہ کی صفائی کا خیال کرنا شروع کر دو۔لجنہ کو میں اس لئے کہتا ہو کہ میرے پاس یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ بہت سی صاف رہنے والی احمدی مستورات اپنے گھروں کی صفائی کر کے مانج کوچ کے سارا گند دروازہ کھول کے گلی میں پھینک دیتی ہیں۔تو گھر صاف ہو جاتے ہیں اور ربوہ جو ہے گندا ہو جاتا ہے۔اس واسطے آپ ایسا انتظام کریں ، ڈیوٹی لگا ئیں ہر ممبر لجنہ کہ اس کے گھر کا جو مرد ہے وہ جو یہ کوڑا کرکٹ اکٹھا کریں، آج کل تو یہ پلاسٹک کے بیگ بڑے سستے مل جاتے ہیں ، مفت بہت سارے مل جائیں گے۔کسی میں کھاد آرہی ہے کسی میں کچھ دو دو پیسے کے شاید مل جائیں مفت مل جائیں۔بہر حال وہ لیں اور ان کو کہیں جو جگہ ہے پھینکنے کی گند کی ، وہاں جا کے پھینکو۔سارا جسم صاف کر کے ایسی بات ہے کہ اپنے ماتھے کے او پرمل لینا گند یہ تو ٹھیک نہیں نا۔تو دروازہ تو آپ کا ماتھا ہے اس کو صاف رکھنا یہ لجنہ کا کام ہے اور گلیوں کا کوڑا کرکٹ ہٹانا، گڑھے جو ہیں چھوٹے چھوٹے ہو جاتے ہیں بارشوں کی وجہ سے اور کئی وجوہات ہیں تو ان کو پر کرنا، جھاڑیاں اُگ آتی ہیں غلط جگہوں پر ان کو کاٹنا۔بعض دفعہ کانٹے والی جھاڑیاں ہوتی ہیں، کیوں میں مہمانوں کو کہتا ہوں ایک مہمان کو بھی اگر کانٹا چھے جلسے کے ایام پر تو ہمارے لئے بڑے دکھ کا وہ باعث بنے گا اور بڑی شرم کی بات ہوگی۔تو یہ صفائی کریں خوب۔غریب جماعت ہیں ہم لیکن ہم سمجھتے ہیں اور خدا کرے کہ ہماری سمجھ درست ہو کہ اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والی ہم جماعت ہیں اور خدا کا ہر حکم خواہ وہ ثِيَابَكَ فَطَهَّرُ (المدثر : ۵) کا ہو خواہ وہ