خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 791 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 791

خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۹۱ خطبه جمعه ۱۴ نومبر ۱۹۸۰ء علاوہ مذہبی دنیا میں بنائے جاتے تھے ان کا خاتمہ کر دیا جائے اور اسی کو ہمارے دلوں میں گاڑنے کے لیے قرآن کریم نے اعلان کیا۔فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمُ (النجم :۳۳) خود اپنے کو اور اپنوں میں سے کسی کو پاکباز نہ قرار دیا کرو تا کہ وہ ارباب نہ بن جائیں۔فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقى (النجم :۳۳) اس بات کا فیصلہ کرنا کہ کون متقی ہے اور کون نہیں خدا کا کام ہے بندے کا کام ہی نہیں ہے۔جب بندے کو یہ طاقت ہی نہیں دی گئی کہ کون پر ہیز گار ہے، کون خدا تعالیٰ کی منشا کے مطابق اس کی تعلیم کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزار رہا ہے اور کون نہیں ، بندے کا کام نہیں کہ کہے فلاں متقی اور فلاں پر ہیز گار۔بڑی خرابیاں پیدا ہوئیں اور ہو رہی ہیں اس وجہ سے فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُم یہ ایک ہی مضمون ہے جسے مختلف طرفوں سے خدا تعالیٰ نے ہمارے سامنے پیش کر کے ہماری عقلوں میں چلا اور روشنی اور نور پیدا کیا ہے هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقُی قوموں کے باہمی تعلقات تھے قرآن کریم کہتا ہے، کوئی قوم کسی قوم کو حقیر نہ سمجھے۔یو۔این۔اوکا ویٹو تو ختم کر دیا گیا۔سپر پاورز (Super Powers) نہیں رہیں اس آیت کے بعد۔جب بنہیں خرابی پیدا ہوئی۔جو خرابیاں دور کرنا چاہتے تھے، جن خرابیوں سے بچانا چاہتے تھے اس سے زیادہ خطر ناک خرابیاں اس ویٹو پاور نے پیدا کر دیں اور اس تصور نے کہ بعض قو میں بعض دوسروں پر فوقیت رکھتی ہیں۔اور تم میں سے کوئی دوسرے پر عیب لگا کر طعن نہ کیا کرے وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمُ (الحجرات: ١٢) اپنے عیب ڈھونڈو اور خدا سے استغفار اور تو بہ کرو۔دوسروں میں تمہاری آنکھ عیب دیکھتی کیوں ہے ؟ حضرت مصلح موعود نے اپنے بچوں کو ”آمین“ میں بہت سی دعائیں دی ہیں اور ان میں سب سے پیاری دعا یہ ہے۔اور اس سے زیادہ پیاری ہمیں دعا نہیں دے سکتے تھے۔الہی خیر ہی دیکھیں نگا ہیں دوسرے میں یہ نقص ہے اپنے نقائص دیکھو اور انہیں دور کرو تا کہ خدا کے حضور سرخرو ہو سکو لا تَلْمِزُوا انفسكم عیب تلاش کرنے ، عیب منسوب کر دینے ، آپ ہی بنا لینے کہ تم میں یہ عیب پایا جاتا ہے تم میں یہ عیب پایا جاتا ہے منع کیا اور وَلا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات: ١٢) ہندو کے اثر کے نتیجہ میں یہ شروع ہو گیا تھا۔یہ جولاہا ہے، یہ موچی ہے، یہ فلاں ہے یہ فلاں ہے