خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 780
خطبات ناصر جلد ہشتم 21۔خطبہ جمعہ کے رنومبر ۱۹۸۰ء اتنے خوفزدہ ہوئے کہ مسلمان کو خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے قتل عام کے الزام سے بچا لیا انہوں نے تلوار کی دھار پر گردن رکھنے کی بجائے وادی میں چھلانگیں ماریں اور ختم ہو گئے۔پھر جیسا کہ انہوں نے کہا تھا ساری فوج لے کے واپس اپنے ملک کو چلے گئے۔بڑی نصیحتیں کیں نوابوں کو، امیروں کو، علماء کو کہ دیکھو اسلام نے ایک اخوت، ایک بھائی چارا پیدا کیا ہے ایک بُنْيَانِ مَرْصُوص بنایا ہے ہمیں۔کیوں آپس میں لڑتے ہو اور اس حالت تک تم پہنچ گئے۔بہت نصیحتیں کیں ان سے وعدے لئے اور پھر واپس چلے گئے اور پندرہ بیس سال کے بعد پھر وہی حال ہو گیا پھر ان کے پاس پہنچے وفود۔تب انہوں نے سمجھا کہ واقعہ میں یہ لوگ اس قابل نہیں رہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی حکومت کو سنبھال سکیں اور دنیا میں امن قائم رکھ سکیں۔پھر وہ آئے وہاں پھر انہوں نے امن قائم کیا اور اپنے بھائی کے بیٹے کو وہاں چھوڑا ، بادشاہ بنایا۔اس طرح پر ایک اور زندگی وہاں کی اسلامی حکومت کو مل گئی۔خدا ( سے ) دعاؤں کے نتیجہ میں اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر تو گل کرتے ہوئے انہوں نے اپنے بھائی کے بیٹے کو وہاں بٹھا دیا اور ساڑھے تین سوسال تک بڑی شاندار حکومت جو انصاف پر، جو عدل پر، جو نور پر ، جو علم کو پھیلانے پر بنی تھی قائم ہوئی ، بڑے بشپ وہاں جا کر علم حاصل کرتے تھے مسلمان اساتذہ سے، اتنی ترقی کر چکی تھی وہ قوم اور پھر جب ہدایت کو چھوڑ ا اور دلوں میں کبھی پیدا ہوگئی اور اعمال ٹیڑھے ہو گئے اور نور کی جگہ ظلمت نے لے لی اور انصاف و عدل کی بجائے نا انصافی اور ظلم نے لے لی تب خدا تعالیٰ کا قہران پر نازل ہوا اور ان کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر دیا۔اس واسطے محض اس سے ہمیں تسلی نہیں پا جانی چاہیے کسی ایک وقت میں اپنی اجتماعی زندگی میں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت پر قائم کر دیا۔افراد بھی ہدایت پالینے کے بعد گمراہ ہو جاتے ہیں اور آنے والی نسلیں ماں باپ کے طریقوں کو چھوڑ دیتی اور گمراہی کی راہوں کو اختیار کر لیتی ہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے اور اس کی رحمت آنے والی نسلوں کو بچائے۔اس لئے ہمیں کہا مجھ سے مانگو رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ وہاب خدا سے بخشش دینے والے خدا، دیالو خدا سے کہو اے خدا ہمیں ہدایت دی ہے تو ہدایت پر قائم بھی رکھ۔ہمیں ہدایت دی ہے تو ہماری نسلوں کو بھی ہدایت دے