خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 781
خطبات ناصر جلد هشتم 201 خطبہ جمعہ کے نومبر ۱۹۸۰ء اور انہیں بھی ہدایت پر قائم رکھ۔جب تک نسلاً بعد نسل قو میں ہدایت پر قائم رہتی ہیں خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ انعامات واپس نہیں لئے جاتے بلکہ بجوں جوں ترقی کرتی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے پیار اور اس کی محبت میں انعامات باری بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ایک وقت میں انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ جس طرح آسمان سے موسلا دھار بارش پڑ رہی ہوتی ہے اور اس کے قطروں کو انسان گن نہیں سکتا ، خدا تعالیٰ کی نعمتیں موسلا دھار بارش کی طرح نازل ہو رہی ہیں جن کو گنا نہیں جا سکتا جیسا کہ میں نے مثلاً اس چھوٹے سے سفر میں ایک ہفتہ کم چار مہینے میں خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو اسی طرح نازل ہوتے دیکھا۔بڑی اہم بڑی ضروری دعا ہے خدا کے حضور عاجزا نہ جھکو اور اس سے کہو اے خدا ہدایت پہ قائم رکھ ، ہمیں بھی ہدایت دے اور قائم رکھ ہماری نسلوں کو بھی اور ہمیں وہ دن دیکھنا قیامت تک نصیب نہ ہو جو دن اسلام کے اس حصہ کو دیکھنا پڑا جو سپین میں بسنے والے تھے نیز دیگر کئی جگہ ہوا ، بغداد میں ہوا۔مختصر اشارہ کر دیتا ہوں۔جس وقت چنگیز خاں کی فوجیں بغداد کا گھیراؤ کر کے ان کا قتل عام کر رہی تھیں تو ایک بزرگ کا دل خدا کے حضور جھکا اور آنسوؤں کی بجائے شاید خون ٹپک رہا تھا اس کی آنکھوں سے۔اس نے خدا کو کہا یہ تیرے بندے مسلمان ہیں کیا ہو رہا ہے ان کے ساتھ۔تو ان کو آواز آئی اَيُّهَا الكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَارَ کہ کا فرما تو رہے ہیں مگر میرے حکم سے مار رہے ہیں کیونکہ یہ بندے میرے بندے نہیں رہے یہ فجار بن گئے ہیں۔ہماری ساری تاریخ اس سے بھری ہوئی ہے۔پس مطمئن نہیں ہو جانا غلط تسلی نہیں پالینی۔خدا دیتا ہے بڑا دیتا ہے، دے گا انشاء اللہ تعالیٰ اور بے شمار دے گا، لیکن اس وقت تک دے گا جب تک ہم اس کے بن کے رہیں گے، جب تک ہم شریعت اسلامیہ کے کسی حکم کو اپنے اوپر بار نہیں سمجھیں گے، جب تک ہم یہ یقین رکھیں گے کہ خدا ہے، طاقتور ہے، ہر کام کر سکتا ہے وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: ۴) جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے حقیقی تعلق جس میں کوئی کبھی نہیں جس میں کوئی کمزوری نہیں فَهُوَ حَسْبُه صرف خدا کافی ہوتا ہے اس کے لئے اور کسی اور کی ضرورت نہیں رہتی اسے ، اور اللہ کافی ہے تو کسی اور کی پھر کیا ضرورت ہے۔مختصراً یہ بتا دوں کہ جو ہدایت سے گرتے ہیں ان کی کئی شکلیں قرآن کریم نے بتائی ہیں۔