خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 760
خطبات ناصر جلد ہشتم 24۔خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۸۰ء کے لئے مانگیں اجازت۔میں نے کہا نہیں، بیس سال کے اندر اندر انقلاب بپا ہو جائے گا تو ہمیں زیادہ کی ضرورت ہی نہیں ہے اور حکومت تیار ہو گئی۔جنرل فرینکو نے کہا ہاں۔اس کے لاء منسٹر (Law Minister) کا بیچ میں دخل تھا اُس نے کہا ہاں۔ایسا وزیر جو مسلمانوں کی جائیدادوں کے ساتھ جس کا تعلق تھا آثار قدیمہ کے ساتھ اس نے کہا ہاں دے دیں گے۔اور آرچ بشپ ان کا جو ہے کارڈینل (Cardinal) سب سے بڑا پادری اس نے کہا نہیں۔نہیں ہونے دوں گا اور وہ پرانا قانون ایسا ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر نہیں کر سکتی حکومت نہیں دیا انہوں نے۔یہ ۷۰ء کا ہے لیکن وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ دس سال کے بعد زمین ہم نے خریدی وہاں۔پہلے اجازت لی یہاں مسجد بنانا چاہتے ہیں۔مقامی آبادی نے کہا ہاں ٹھیک ہے بناؤ۔قانو نا پھر مرکز سے پوچھنا تھا تو جو میڈرڈ کا نمائندہ قرطبہ میں رہتا ہے ان کے وہاں برانچ ہے ایک۔آفسز (Offices ) ہیں۔انہوں نے اِن رائٹنگ (In writing) اجازت دی کہ ہاں مسجد بناؤ۔دس سال میں وہ انقلاب عظیم بپا ہو گیا اور خدا تعالیٰ کا منشا پورا ہونا شروع ہو گیا وہاں۔اور ہم وہاں گئے گنتی کے چند آدمی تیس چالیس ہوں گے کیونکہ سارے مبلغ اکٹھے ہو گئے کچھ دوسرے آگئے۔امریکہ سے بھی آگئے نمائندے کوئی ، غالباً الفضل میں رپورٹ شاید چھپ بھی چکی ہے تھوڑی سی۔میں نے وہ تارلمبی چوڑی دلوا دی تھی لیکن وہ تو ٹھیک ہے ہمارا خیال تھا جا ئیں گے وہاں گریہ وزاری کے ساتھ خدا کے حضور دعائیں کریں گے، بنیا درکھیں گے، آجائیں گے لیکن وہاں خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اپنی انگلیوں میں لے کے یوں بدلا ہے کئی سو مردوزن، چھوٹے بچے، بڑی عمر کے بوڑھے جن سے چلا بھی نہیں جاتا تھا، بوڑھے مرد، بوڑھی عورتیں ، جوان ، چھوٹے چھوٹے بچے گودوں میں وہ آگئے اور جس وقت بنیاد میں نے رکھا ایک پتھر ، اس کے بعد منصورہ بیگم نے ساری دنیا کی احمدی مستورات کی طرف سے رکھا پتھر ، اس کے بعد ہمارے جتنے مبلغ تھے ان سے میں نے رکھوانا شروع کیا۔تین کے نام مجھے اس وقت چونکہ فہرست نہیں بنی ہوئی تھی یاد نہیں رہے تھے وہ نہیں رکھے گئے لیکن ان سے اذانیں دلوا کے ان کا نام میں نے تاریخ میں بہر حال تاریخ بھولے گی نہیں وہ آگیا ان کا نام بھی۔پھر مجھے خیال آیا کہ یہ جو یعنی جو خوشی کی جنونی کیفیت ہوتی ہے وہ کئی سولوکل آبادی کے