خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 729 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 729

خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۲۹ خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۸۰ء ان کی معاشرتی ذمہ داریاں سمجھانے کا ایک ادارہ بھی ہے۔الغرض مسجد کے بے شمار فائدے ہیں۔جن میں سے میں نے اس وقت صرف چند ایک کا ذکر کیا ہے۔تمہیں یہ امر ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور اسے کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ تم یہاں ( یعنی مسجد میں ) زبان سے اور دل سے خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے ، اس کا ذکر کرنے اور اس سے دعائیں کرنے آئے ہو۔مسجد میں شور بالکل نہیں ہونا چاہیے تمہارا فرض ہے تم اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے بن کر عبادت، دعاؤں اور ذکر الہی میں مسجد کے اندرا اپنا و وقت گزارو۔میں دعا کرتا ہوں کہ تم نے جو یہ مسجد بنائی ہے یہ ہمیشہ آبا د ر ہے۔اللہ تعالیٰ تم کو اور تمہاری آئندہ نسلوں کو اسے آباد رکھنے ، اس کے آداب کو ملحوظ رکھنے اور اس کے علمی ، دینی ، روحانی اور معاشرتی فوائد سے متمتع ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔اس کے بعد میں تمہیں تمہاری ایک اور ذمہ داری یاد دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم اپنے بچوں کی تربیت کے ذمہ دار ہو تمہیں اس امر کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہر احمدی بچہ اور بچی حصول علم کے لئے سکول ضرور جائے۔کوئی ایک بچہ بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو سکول نہ جا رہا ہو۔اور دل لگا کر تعلیم نہ حاصل کر رہا ہو۔یہ اس لئے ضروری ہے اور تم اس سے بخوبی واقف ہو کہ جماعت احمد یہ جاہلوں کی جماعت نہیں ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے عالموں اور فاضلوں کی جماعت ہے۔اور نسلاً بعد نسل اس کی اس حیثیت کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ ہم اس کی ذات اور صفات کا علم حاصل کریں۔ذات و صفات باری کے علم کو عربی زبان میں عرفانِ الہی یا معرفت الہی کہتے ہیں۔یعنی اس بات کا حتی المقدور علم حاصل کرنا کہ قرآن کریم ہمیں خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارہ میں کیا تعلیم دیتا ہے۔وہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ اس کا ئنات اور اس کی ہر شئے کا خالق ہے ، وہ مالک ہے، علیم ہے، خبیر ہے، عَلَامُ الْغُيُوبِ ہے ، وہ اپنی پیدا کردہ مخلوق کو ، ہر ایک ذرہ کو اور اس میں ودیعت کردہ خواص کو پوری تفصیل اور جامعیت کے ساتھ جانتا ہے اس کا علم ہر ایک شے پر محیط ہے۔کوئی چیز اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں۔اسی طرح تمام مادی علوم بھی اسی کی ذات اور صفات کو آشکار کرنے والے ہیں کیونکہ یہ سب علوم جنہیں عرف عام میں مادی یا دنیوی علوم کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی صفات کے