خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 728 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 728

خطبات ناصر جلد هشتم ۷۲۸ خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۸۰ء کوئی عیسائی خدائے واحد کی عبادت کرنا چاہتا ہے یا کوئی اور غیر مسلم چاہتا ہے کہ وہ خدائے واحد کی پرستش کرے، تو اللہ تعالیٰ کی ہدایت یہ ہے کہ اس کو مسجد میں عبادت کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔جیسا کہ خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤحد عیسائیوں کے ایک وفد کو اپنی مسجد (مسجد نبوی) میں عبادت کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔اور اجازت عطا ہونے پر انہوں نے مسجد نبوی میں اپنے طریق کے مطابق خدائے واحد یگانہ کی عبادت کی۔ہر شخص جانتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد سے زیادہ کوئی مسجد دنیا میں عزت والی نہیں ہو سکتی۔اگر مؤخد عیسائی مسجد نبوی میں عبادت کر سکتے ہیں، تو کسی مؤحد کو اس مسجد میں یا کسی اور مسجد میں عبادت کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے سو اسلام نے مسجد کے متعلق پہلی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ کسی مؤحد کو اس میں عبادت کرنے سے روکا نہیں جا سکتا۔دوسری بات اسلام نے اس تعلق میں یہ بیان کی ہے کہ کسی ایسے شخص کو اللہ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں جو شرارت اور بری نیت سے اس میں داخل ہوتا ہے۔ان دونوں باتوں سے ایک تو یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ اسلام امتیازات کو مٹانے والا ہے۔یہ انسان انسان میں کوئی فرق نہیں کرتا۔مسجد میں تمام لوگ مساوی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔کوئی کسی سے بڑا نہیں ہوتا۔دوسرے مذکورہ بالا دو شرائط سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسجد ایک مقدس جگہ ہے جو دعا اور ذکر الہی کے لئے مخصوص ہے۔اور روحانی امور پر غور کرنے کے لئے ہے۔اس لئے مسجد میں شور مچانے اور باہم جھگڑنے کی اجازت نہیں۔مسجد کا ایک اور خوبصورت پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ مسجد بنی نوع انسان کی رہنمائی کا کام دیتی ہے۔اس میں لوگ کائنات کی بنیادی حقیقتوں کا علم سیکھتے ہیں اور اسلام کی اصل حقیقت سے آگاہ ہونے کے بعد وہ اس قابل بنتے ہیں کہ دوسروں کو اللہ کی جنت کی طرف لائیں۔مسجد میں آکر اور یہاں خدائے واحد کی عبادت بجالا کر اعلیٰ اخلاقی صفات اپنے اندر پیدا کی جاتی ہیں اور ایک مسلمان اس قابل بنتا ہے کہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ بنے۔انسان کو مسجد میں بُرے اعمال اور بُرے خیالات سے نجات ملتی ہے۔بعض اوقات مسافر اس میں آرام کرتے ہیں مسجد لوگوں کو