خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 57
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۷ خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۷۹ء اور تیسری چیز یہ کہ پھر نشو و نما کی توفیق بھی ملے اُس شخص کو کہ اپنی استعدادوں کی وہ نشوونما کر سکے۔اور چوتھے یہ کہ جب اس کی قوتیں اور استعدادیں کامل نشو و نما حاصل کر لیں تو موقع اور محل پر ان کا پورا اور صحیح استعمال کرنے کی بھی اسے توفیق ملے۔اس نقطہ نگاہ سے فضیلت ان چار چیزوں کا مطالبہ کرتی ہے تو یہاں یہ اعلان کیا ہے۔علمك مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَ كَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا كہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے صلاحیتیں اور استعدادیں دیں، اس قدر دیں کہ کسی اور انسان کو نہیں دیں اور ان کی نشوونما کے مواقع بھی پورے کے پورے اور جتنے چاہیے تھے وہ بہم پہنچائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ طاقت بھی دی کہ ان مواقع سے بہترین فائدہ حاصل کریں اور اپنی قوتوں اور استعدادوں کی خدا تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اور اس کے فضلوں کو جذب کرتے ہوئے توفیق پائیں اور پھر جب وہ اپنی استعدادوں اور اُن کی کامل نشوونما کے بعد اس قابل ہو جائیں کہ ان کامل قوتوں کے جلوے اپنی پوری وسعتوں اور گہرائیوں کے ساتھ اس کائنات پر ظاہر کر سکیں تو وہ موقع اور محل کے مطابق اپنی تمام قوتوں اور استعدادوں کے جلوے اس کائنات پر ظاہر کرنے والے ہوں۔اللہ نے فرمایا ہے عَلبَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ که خدا جو اَعْلَم ہے اس نے اپنے علم سے علم دیا مثلاً ہم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہتے ہیں کہ آپ تمام انبیاء سے افضل ہیں جب ہم آپ کا دوسرے انبیاء سے مقابلہ کریں تو ہمیں ایک ایسا نبی نظر آتا ہے جس پر تنگی کا زمانہ آیا اور تنگی کی زندگی گزارتے وقت جن صلاحیتوں کا مظاہرہ ہونا چاہیے وہ موقع تو اس کو مل گیا لیکن فراخی اور وسعت کے وقت جن طاقتوں کا ، جن صلاحیتوں کا مظاہرہ انسان کرتا ہے وہ موقع ہی ان کو نہیں ملا یا سیاسی لحاظ سے ماتحت ہونے کے لحاظ سے جن صفات کا اظہار ان رسولوں نے کیا، وہ موقع تومل گیا لیکن بادشاہت ان کو نہیں ملی تو حاکم وقت ہونے کے لحاظ سے جن اعلیٰ خوبیوں کا اظہار کرنے کا موقع مل سکتا ہے کسی ایسے انسان کو جس میں وہ قوتیں اور استعداد میں پائی جائیں کہ جب وہ بادشاہ ہو تو ان کا اظہار کرے تو وہ تو اسی وقت ہوگا نا جب وہ بادشاہ بن جائے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی