خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 56 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 56

خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۶ خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۷۹ء ہر چیز سے سب سے زیادہ واقف اور ہر چیز کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا وہ اللہ ہے جس نے ان جہانوں کو پیدا کیا۔اُن کی خاصیتوں کو پیدا کیا اور طاقتوں کو پیدا کیا اور بتدریج اُن کو ارتقائی مدارج میں سے گزارتے ہوئے ہر چیز کو اپنے عروج تک جو پہنچاتا ہے اور اُن کی پرورش کرتا ہے اور ربوبیت کرتا ہے۔وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ اللَّبِينَ عَلَى بَعْضٍ (بنی اسراءیل : ۵۶ ) اور یہ اعلم خدا، یہ اعلم ربّ تمہیں بتاتا ہے کہ بعض نبیوں کو ہم نے بعض دوسروں پر فضیلت دی ہے۔ایک اور جگہ فرمایا :۔b وَعَليكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (النساء : ۱۱۴) خدا تعالیٰ نے تجھے اپنی صفات کی وہ معرفت عطا کی جو کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔عَلبَكَ مَا لم تكن تعلم اور اس طرح بنی نوع انسان میں سب سے زیادہ فضل خدا تعالیٰ کا تجھ پر ہوا۔عربی زبان میں عظیم کا لفظ اُس جگہ بولا جاتا ہے جس سے بڑھ کر کوئی اور چیز متصور نہ ہو۔یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جو فضل نازل ہوا، اس کے متعلق عظیم کا لفظ آیا ہے یہ فضیلت جو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی۔اس پر جب ہم غور کرتے ہیں اور اس کا ذہنی تجزیہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے جو باتیں آتی ہیں وہ یہ ہیں۔ایک تو یہ کہ جو طاقتیں اور قوتیں اور صلاحیتیں اور استعداد میں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی تھیں، وہ اس قدر اور اتنی خوبیاں رکھنے والی تھیں کہ اتنی استعداد میں کسی اور کو عطا نہیں کی گئیں یعنی اپنی صلاحیتیوں اور استعدادوں کے لحاظ سے آپ ہر دوسرے انسان اور آپ ہر دوسرے رسول سے فضیلت رکھتے تھے۔دوسری چیز اس سلسلہ میں ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ استعداد دے اور بہت سے انسانوں کو خدا تعالیٰ ایسی استعدادیں عطا کرتا ہے جنہیں انسان خود اپنی غلطیوں اور گناہوں کے نتیجہ میں ضائع کر دیتا ہے تو محض استعداد کا ملنا کافی نہیں کسی کی شان کے اظہار کے لئے بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مواقع بہم پہنچائے کہ ان استعدادوں کی صحیح اور سچی اور کامل نشو و نما کا امکان ہو۔