خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 699
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۹۹ خطبہ جمعہ ۱۱ جولائی ۱۹۸۰ء تھی اس لئے استعدادوں کے لحاظ سے نیز آتقی ہونے کے لحاظ سے اس بشر اور دوسرے بشر کے مابین بڑا فرق ہے۔اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بشر ہونے کے لحاظ سے اپنے وجود کو ہر بشر کے ساتھ بریکٹ کر دیا اور بتا دیا کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تمام دوسرے انسانوں میں کوئی فرق نہیں ہے بلحاظ نوع یکسانیت کا یہ شرف مردوں اور عورتوں دونوں کو حاصل ہے اسلام نے اس شرف میں شریک ہونے کے لحاظ سے مرد اور عورت میں کوئی تفریق نہیں کی بلحاظ استعداد مرد، مرد اور عورت، عورت میں بھی فرق ہے اور ہر ایک نے اپنے دائرہ میں رہتے ہوئے ترقی کرنی ہے ان میں سے کوئی اپنی استعداد کے مطابق کتنی ہی ترقی کر جائے۔اسلام کہتا ہے کہ بشر ہونے کے لحاظ سے بلا تفریق و امتیاز تمام مرد اور تمام عورتیں ایک ہی سطح پر ہیں۔حضور نے عورتوں اور مردوں میں مساوات کے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے فرما یا :۔اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں میں مساوات کا ایک اور لحاظ سے بھی ذکر کیا ہے اور وہ ہے رحمت سے بہرہ یاب ہونے میں مساوات چنانچہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے : وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء : ١٠٨) ( ترجمہ:۔اور ہم نے تجھے تمام دنیا کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کے دائرہ میں صرف مرد آئیں گے بلکہ کہا یہ ہے کہ ہم نے آپ کو تمام عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے دُنیا کی ہر چیز آپ کی رحمت سے حصہ لے رہی ہے۔آپ تمام انسانوں یعنی مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے رحمت بن کر آئے ہیں۔آپ کی رحمت مردوں اور عورتوں کو یکساں فیض پہنچارہی ہے یعنی آپ کی رحمت سے بہرہ یاب ہونے میں مردوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔اسلام میں عورت اور مرد کے مساوی درجہ اور مساوی حقوق کو واضح کرتے ہوئے حضور نے مردوں اور عورتوں سے متعلق قرآنی آیات کا جائزہ بھی پیش کیا فرمایا جب میں نے مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق و فرائض کی روشنی میں قرآنی آیات کا جائزہ لیا تو میں نے دیکھا کہ قرآن مجید کی ایسی آیات جن میں اللہ تعالیٰ نے الناس کہہ کر یعنی مردوں اور عورتوں کو ایک ساتھ