خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 670 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 670

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۷۰ خطبه جمعه ۱/۲۵ پریل ۱۹۸۰ء سے ہر ایک سمجھتا تھا کہ ہم نے اتنا دکھ پہنچایا ہے کہ جو مرضی ہم سے کر لیں یہ حق بجانب ہوں گے۔عکرمہ مکہ چھوڑ کے چلا گیا۔ملک چھوڑنے کو تیار تھا اسی خوف کے مارے کہ میں نے اتناظلم کیا ہے ان لوگوں پر ، آج جو بھی سزا مجھے دیں وہ ٹھیک ہے ، حق بجانب ہوں گے۔میں نے ان کو بتایا کہ کیا سزا دی ؟ سزا یہ دی کہ جاؤ میں نے تم سب کو معاف کیا۔یہ سزا دی جاؤ تم سب کو معاف کیا۔خالی یہ نہیں کہا یہ کہا میں اپنے خدا سے بھی دعا کروں گا کہ وہ تمہیں معاف کر دے۔تو مَا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى قرآن کریم دکھوں کو دور کرنے کے لئے آیا ہے دکھ پہنچانے کے لئے نہیں آیا۔اس واسطے اس بنیاد پر کھڑے ہو کے علوم سیکھیں اور دنیوی علوم میں بھی دنیا والوں سے آگے نکل کے بتا ئیں تب وہ عظمت جو قرآن کریم کی ہے اس عظمت کو وہ سمجھ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔اگر آپ سوئے رہیں، اگر آپ اپنے بچوں سے لا پرواہ رہیں، اگر خدا تعالیٰ کی ناشکری کرتے ہوئے جو ذہن آپ کے بچوں کو اس نے عطا کئے ہیں ان کا خیال نہ رکھیں، اگر وہ ذہن ضائع ہو جائیں اگر وہ ترقی نہ کریں ، اگر وہ لوگوں سے آگے نہ نکلیں تو کیسے آپ ثابت کریں گے کہ قرآن کریم پر عمل کرنے والے تم لوگوں سے آگے بڑھنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ سمجھ عطا کرے اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کہ ہم اس کی راہ میں پیش کریں اس کی ہمیں توفیق دے اور ہم اپنے مقصد کو پالیس اور اسلام ساری دنیا پر غالب ہو جائے۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )