خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 652 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 652

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۵۲ خطبه جمعه ۲۱ / مارچ ۱۹۸۰ء اور کہا کہ اس راستے پر چل۔تو میرے پیار کو حاصل کرے گا۔خدا کے حکم سے میں نے وہ راہ اختیار کی اور خدا کے فضل سے میں نے خدا کی رحمتوں کو اور اس کی رضا کو اور اس کے پیار کی جنتوں کو حاصل کیا۔اس قدر وسعت کے ساتھ اور قوت کے ساتھ گہرائیوں والی محبت انتہائی طور پر جو محبت انسان کرتا ہے وہ میں نے کی خدا سے اور خدائے عظیم خدا تعالیٰ جو جلال والا اور قدرتوں والا ہے اس نے اس قدر نعمتیں مجھے دے دیں کہ انسان کے تصور میں بھی وہ نہیں آسکتیں۔تو فَاتَّبِعُونی میرے دل میں تڑپ تھی۔مجھے ایک راہ دکھائی گئی۔مجھے کہا گیا اس پر چلو خدا کو پالو گے اس کے پیار کو پالو گے۔میں اس راہ پر چلا۔آپ کی طرف سے یہ اعلان قرآن کریم نے کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے شہادت دی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت یہ ہے۔اِنْ اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يوحى إلى (الانعام : ۵۱) یہاں تو یہ تھا میری اتباع کرو۔وہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا ، خدا تعالیٰ کی شہادت کے طور پر ہے یہ ، إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى اِلی میں تو صرف اس وحی کی اتباع کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر نازل ہوتی ہے اس کے علاوہ اور کسی چیز کے پیچھے نہیں لگتا۔تو کامل اتباع کا اعلان خدا تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کریم میں کروایا کہ یہ اعلان کر دو تو خدا جب کہتا ہے اعلان کرو تو خدا تعالیٰ شہادت دے رہا، گواہی دے رہا ہوتا ہے کہ یہ سچی بات ہے، یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ خدا تعالیٰ کی شہادت اس پر گواہی دے رہی ہے کہ جو وحی نازل ہوئی۔اس سے ایک ذرہ بھر نہ دائیں ہٹے نہ بائیں ہے۔وہ ایک سیدھا راستہ تھا اس پر آپ گامزن ہوئے۔اس کو چھوڑ نہیں۔اس کو ایک لحظہ کے لئے بھی فراموش نہیں کیا اور اس پر چلنے میں کوئی شستی اور غفلت نہیں برتی اور آخر خدا تعالیٰ کی محبت کو پالیا اور پایا بھی اس شان کے ساتھ ، اس عظمت کے ساتھ ، اس رفعت کے ساتھ ، اس وسعت کے ساتھ کہ آپ سے پہلے کسی نبی نے خدا تعالیٰ کی اس قسم کی محبت کو حاصل نہیں کیا تھا۔تو یہاں یہ تین باتیں میں کہہ رہا ہوں جواللہ تعالیٰ نے بیان کی ہیں اور یہ دلیل دی ہے کہ تمہارے دل میں اگر واقعہ میں خدا تعالیٰ کے لئے پیار ہے تو اس پیار کا جو مطالبہ ہے وہ یہ ہے کہ تم