خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 630 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 630

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۳۰ خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۰ء رکھتا ہوں۔میرے سامنے کرو پیش جواب اس مطالبہ کا۔پھر مقابلہ ہو جائے کہ سورہ فاتحہ میں جو علوم ہیں ، اسرار روحانی، وہ زیادہ ہیں یا ان کی ساری کتاب میں زیادہ ہیں وہ انگریزی ترجمہ میں نے ان کو دے دیا۔میں نے کہا سر جوڑ نا اور پھر مجھے جواب دے دینا۔۶۷ء کا وہ دن جولائی کا کوئی دن تھا اور آج کے دن تک کسی نے جواب نہیں دیا اور وہاں بہ پرو پیگنڈہ کر دیا کہ میرا رویہ سخت تھا وہاں سے ایک صحافی آئے بڑے مشہو ر وہاں کے صحافی ہیں۔ربوہ بھی آئے تو مجھے کہنے لگے۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے کچھ سخت رویہ اختیار کیا تھا۔میں نے کہا میں نے تو یہ رویہ اختیار کیا تھا اس نے کہا۔اچھا یہ بات ہے تو پھر میں جاکے ان کی خبر لوں گا۔خیر اس نے خبر لی یا نہ لی۔سوال تو یہ ہے کہ قرآن کریم بڑی ہی عظیم کتاب ہے۔اب سورہ فاتحہ کا چونکہ چیلنج دیا ہوا تھا تو مجھے خود خیال آیا کہ اگر وہ تیار ہوجائیں ( جو مجھے یقین تھا نہیں ہوں گے ) تو مجھے تو شروع کرنی ہوگی تفسیر سورہ فاتحہ کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے سورۂ فاتحہ کی تفسیر کی ہے اور پھر خدا تعالیٰ نے بہت ساری نئی باتیں مجھے بھی سکھائیں سورۃ فاتحہ کی وہ سارا مجموعہ ایک بہت بڑا علم بنتا ہے پھر آپ بڑھتا چلا جائے گا یہ علم۔یہ اکٹھا تو ہو جانا چاہیے۔تو اسی خیال سے یہ قرآن کریم کی تفسیر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ہے وہ چھپوانی شروع کی۔ایک جلد میں سورہ فاتحہ کی تفسیر ہے اور بڑی عجیب تفسیر ہے، بہت ہی پیاری، بہت مزیدار، بہت لطف آتا ہے پڑھ کے اور سارے خدام کے پاس پتہ ہے اس کی کتنی جلد میں ہیں۔صرف باسٹھ خدام کے پاس کراچی کے نو حلقوں میں سورہ فاتحہ کی تفسیر صرف چھتیں خدام کے پاس سورہ بقرہ کی تفسیر ، صرف سولہ خدام کے پاس سارے کراچی میں ال عمران، النساء کی تفسیر ، صرف دس خدام کے پاس سورہ تو بہ اور اس کے ساتھ کچھ (اور سورتیں ملی ہوئی ہیں ) ان کی تفسیر اور صرف پندرہ خدام کے پاس سورۃ یونس تا کہف کی تفسیر إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔اس واسطے اس سلسلہ میں میرے ذہن میں دو تجاویز آئی ہیں۔ایک تو میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔وہ اسی جگہ لیتا ہوں دوسری کا ایک اور مضمون (Point) ہے۔اس ضمن میں الگ بات کروں گا یعنی جو میں نے کلب (Club)