خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 629
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۲۹ خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۰ء تو یہ سوال کر دیا کہ اس کی ضرورت کیا تھی؟ آپ نے اس کا یہ جواب دیا کہ تم قرآن کریم کی ضرورت پوچھ رہے ہو۔میں کہتا ہوں کہ سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے جو اسرار روحانی بیان کئے ہیں اور جو علوم اس میں پائے جاتے ہیں جو سات آیات پر مشتمل ایک صفحہ بھی نہیں بنتی (اسی واسطے جتنے ہمارے قرآن کریم چھپتے ہیں۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ پہلا صفحہ جہاں سورہ فاتحہ ہے اس کے ارد گر د بیل بوٹے ڈال کے تو اکثر حصہ صفحے کا سجایا ہوا ہے اور بیچ میں وہ سورہ فاتحہ سات چھوٹی چھوٹی آیات پر مشتمل لکھی گئی ہے) اس سات آیات مشتمل سورۃ فاتحہ کے علوم کے برابر می اگر تم اپنی ساری کتاب میں سے نکال کر مجھے دکھا دو تو میں سمجھوں گا کہ تمہارے پاس کچھ ہے۔لمبا زمانہ گزر گیا اس چیلنج پر انہوں نے اس علمی میدان میں کوئی کشتی نہیں کی تھی۔سر نہیں پھوڑنے تھے ، جسموں کو زخمی نہیں کرنا تھا، سینوں کو منور کرنے کا سوال تھا۔نہیں آئے ، ۱۹۶۷ ء میں جب میں اپنی خلافت میں پہلی بار باہر نکلا تو کوپن ہیگن میں جہاں میں نے مسجد کا افتتاح بھی کرنا تھا تین مختلف سوسائیٹیز (Societies) نے ( دو کا تعلق عیسائی پادریوں سے تھا اور ایک محققین کی جماعت تھی) کہا ہم نے علیحدہ علیحدہ ملنا ہے۔میں نے ان سے کہا وقت کم ہے، مصروفیت زیادہ ہے اگر آپ کو تکلیف نہ ہو تو تینوں اکٹھے مجھ سے مل لیں۔چنانچہ انہوں نے اپنے چار چار نمائندے مقرر کئے اور وہ بارہ اکٹھے ہو کر آئے۔ان کا ایک لیڈر تھا۔بڑی دلچسپ گفتگو ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ جوان کو جواب تھا کہ سورۂ فاتحہ کے مضامین اگر اپنی ساری کتاب میں سے نکال کے دکھا دو تو ہم سمجھیں گے تمہارے پاس کچھ ہے۔میں نے اس کا انگریزی ترجمہ ٹائپ کروا کے رکھا ہوا تھا۔ان کو دینے کی غرض سے جس وقت ہم باہر نکلے اور میں انہیں رخصت کر رہا تھا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس جواب کا ذکر کرتے ہوئے کہا اس واسطے میں نے پہلے بات نہیں کی کہ میں نے اس کا فوری جواب نہیں لینا۔یہ آپ سے مطالبہ کیا گیا تھا بڑا لمبا زمانہ گزرا لیکن آپ نے خاموشی اختیار کی۔آپ میں سے آج کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ جس شخص نے یہ مطالبہ کیا تھا وہ تو ۱۹۰۸ء میں فوت ہو گئے تو اب ہم کس کے سامنے جا کر مطالبہ منظور کریں۔میں نے کہا میں ان کا نائب موجود ہوں اور میں یہ تمہارے سامنے۔