خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 627 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 627

خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۲۷ خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۰ء محمد ود ہوں تو اس وقت جب وہ پہلی ساری باتیں ختم ہو گئیں اس کے بعد اس دعا کا کوئی فائدہ نہیں لیکن قیامت تک آنے والے انسان کو یہ دعا سکھائی قرآن کریم نے کہ یہ دعا کرتے رہو کہ اے خدا ! ہمیں قرآنی علوم میں بڑھاتا ہی چلا جا۔قُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا - اور یہ بھی ہمیں بتا یا اللہ تعالیٰ نے کہ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ (ي سورۃ بقرہ کی ۲۵۶ ویں آیت کا ایک ٹکڑا ہے ) اس سے پہلے اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ جو کچھ انسان کے سامنے ہے اور جو کچھ انسان کے پیچھے ہے یعنی جو کچھ اس کے علم میں ہے اور جو کچھ وہ اپنے عدم علم کی وجہ سے جانتا نہیں ، جاہل ہے اُس سے ، وہ سب کچھ ہی اللہ تعالیٰ جانتا ہے یعنی جو کچھ بھی ہے خواہ وہ انسان جانتا ہو یا نہ جانتا ہو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلمِةٍ إِلا بِمَا شَاء اللہ تعالیٰ کا ئنات کو پیدا کرنے والا ، کائنات کی کنہ کو جاننے والا ہے اور اس کی مرضی کے سوا اس کے علم کے کسی حصہ کو بھی کوئی شخص پانہیں سکتا۔تو ہر علم میں جو زیادتی ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی منشا اور مرضی کے مطابق ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایک دہر یہ سائنس دان جب کوئی Problem حل کر رہا ہو یا اپنا کوئی فارمولا بنارہا ہوا اور اس کو سمجھ نہ آرہی ہو، دماغ میں اندھیرا ہو اور ایک تڑپ اس کے اندر پیدا ہوتی ہے کہ کہیں سے مجھے روشنی ملے تو وہ تڑپ ایک غافل کی دعا کی مانند ہے اور اللہ تعالیٰ ایسا ہی سمجھتا اور اس کے دماغ میں روشنی پیدا کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس جگہ کسی آیت کا حوالہ نہیں دیا۔ابھی میں نے جو کہا تھا نا کہ کسی آیت کا حوالہ آپ دیں نہ دیں کہ وہ ہے کسی نہ کسی آیت کی تفسیر۔پہلے میرے دماغ میں یہ بات نہیں تھی تب آپ سے باتیں کرتے ہوئے یہ آیت آگئی سامنے ، وہی مثال اس کی کہ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاء۔اس کی تفسیر کرتے ہوئے آپ نے وہ لکھا ہے کہ کوئی دہریہ کوئی کمیونسٹ، کوئی بت پرست، کوئی بد مذہب علم کے میدان میں ترقی کرتے ہوئے جب ترقی کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کی منشا کے مطابق ترقی کرتا ہے اس کی منشا کے بغیر ترقی نہیں کرتا اور انسان اللہ تعالیٰ کی مرضی کے سوا اُس کے علم کے کسی حصہ کو بھی پا نہیں سکتا۔اور اس سے اگلا ٹکڑا آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم آسمانوں پر بھی اور زمین پر بھی حاوی ہے۔