خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 619
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۱۹ خطبه جمعه ۲۹ فروری ۱۹۸۰ء رکھتی بڑی چھوٹی سی عقل ہے اس کی ، اس طرح کی تو عقل ہے ہی نہیں اس کی بہر حال طبعاً وحی کے مطابق وہ کام کر رہی ہے اور اس میں وائرس کو مارنے والی چیز میں آگئیں۔پتھروں کے درمیان وائرس کلر (killer) ست سلاجیت، یہ بھی وائرس کلر (killer) ہے۔نمبر دو یہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامان پیدا کر دیئے تاکہ ان اشیاء کی جنہوں نے جن کا مقصد حیات یہ تھا کہ انسان کی حفاظت کریں اس وائرس اور بیکٹیریا سے جو وبائی شکل میں آکے لاکھوں کی تعداد میں ان کو کل (kill ) کر کے ختم کر سکتا تھا وہ ان چیزوں کی حفاظت کی کہ یہ بن جائیں پوری اور قائم رکھیں اپنی صفات کو۔جو خواص کا قائم رکھنا ہے یہ بھی خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔ان کی صفات کی حفاظت کی تاکہ انسان کے کام آجائے۔یہ۔۔۔فلق میں بھی یہ مضمون ابھی میں نے بتایا ہے اور وَكَانَ اللهُ بِكُلِ شَيْءٍ محيطا سورۃ نساء میں ہے اس کے محیط کے معنے عربی زبان میں جب علیا یعنی یہ کہا جائے علم کے لحاظ سے فلاں چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے تو اس کے معنے اعربی لغت یہ کرتی ہے کہ شے کے وجود کو جانتا ہے، اس کی جنس کو جانتا ہے اور اس کی جو مقدار، اس کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں ان کو جانتا ہے ان کی کیفیت کو جانتا ہے۔جو وہ ایک دوسرے کے اوپر ان کا اثر ہورہا ہے ان کے ساتھ جو بیرونی دنیا میں ہونے والی ہیں ان کو جاننے والا ہے اسے کیوں پیدا کیا کس غرض سے پیدا کیا اس کو جانتا ہے، اندر باہر کا جاننے والا ہے اور غرض کو پورا کرنے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ پھر ربوبیت آجاتی ہے اور جب تک ان چیزوں کا علم نہ ہو تو ربوبیت کاملہ ہو ہی نہیں سکتی یعنی رب العلمین کی صفت کے ساتھ اس کی یہ صفت بھی ضروری ہے عقلاً اور ہمیں سمجھایا ہے کہ یہ نہ سمجھنا کہ وہ رب العلمین تو ہے لیکن محیط نہیں ہے اس کے علم نے ہر شے کا احاطہ کیا ہوا ہے اس معنی میں کہ باریک سے بار یک چیز ، وہ چیزیں بھی جو آج سے ہزار سال بعد انسان کو پتہ لگیں گی یا قیامت تک پتہ لگیں گی یا شاید نہ بھی پتہ لگیں بعض بے وقوف انسان کو۔خدا تعالیٰ کے علم سے تو باہر نہیں، نہ کبھی باہر ہو ئیں ، نہ ہیں ، نہ کبھی ہوسکتی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔رَبُّ الْفَلَقِ فلق کے معنی ہیں کہ ظلمات میں تجریدی تبدیلی پیدا کرنے کے بعد ، ویسے تو اس کے معنی انہوں نے کئے ہیں صبح کی ربوبیت کرنے والا۔لیکن جب میں نے غور کیا تو مجھے یہ معنی اس کے سمجھ آئے ہیں کہ تجریدی ترقی کے حصول پر صبح کی تربیت کرنے