خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 612
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۱۲ خطبه جمعه ۲۹ فروری ۱۹۸۰ء برکتیں اور رحمتیں تمہیں ملیں گی۔اگر نہ کرو گے تو جس مقصد کے لئے اس نے تمہیں پیدا کیا کہ تم اس کے قرب کو حاصل کرو۔جو مقصد تم حاصل کرو گے مگر اس مقصد کے حصول کی راہ نارِ جہنم میں۔گزرے گی تمہاری آلائشوں اور برائیوں کے نتیجہ میں۔اس آیت میں رَبُّ الْعَلَمِينَ پر ایمان لانے اور رب العلمین کی فرمانبرداری کرنے کا حکم ہے۔اسی سورت میں ۱۶۵ آیت ہے قُلْ أَغَيْرَ اللهِ ابْغِی رَبَّا وَ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ یہ چھوٹی سی آیت ہے بڑا ہی پر لطف حسین اور وسیع مضمون اس میں بیان کیا گیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اعلان کرو، انسان کو کہ اگر فطرتِ صحیحہ کے مطابق تم زندگی گزارو، اگر خدا تعالیٰ کی معرفت تمہیں حاصل ہو ، اگر کائنات جس غرض کے لئے یہ پیدا کی گئی ہے اس کا تمہیں علم ہو تو تم یہ اعلان کرنے پر مجبور ہو گے۔آغَيْرَ اللهِ آبغِی رَبا کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا رب بطور مطلوب کے بنا سکتا ہوں اور دلیل یہ دی کہ اللہ تو وہ ہے جو رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ بڑی وسعت ہے اس دلیل میں اور بڑی پختگی ہے اس دلیل میں اور بڑا اثر ہے اس دلیل میں اگر ہم سوچیں۔یہاں کہا یہ گیا ہے کہ تم اس کا ئنات پر غور کرو۔معدنیات ہیں، ہیرے جواہرات ہیں، درخت ہیں جن کی۔۔۔۔کرتے ہیں ہم۔پانی ہے، زراعت کے ساتھ تعلق رکھنے والی اجناس ہیں، جنگلات سے تعلق رکھنے والے جنگل ہیں ، پھل دار درخت ہیں، جس چیز کو بھی تم لو اس کی زندگی ربوبیت کی محتاج نظر آتی ہے۔ربوبیت یا عربی میں مصدر ہے، ایک تو فاعل ہے ربّ ، رَبُّ كُلِّ شَيْ ءٍ چل رہا ہے۔ایک مصدر ہے وہ بھی الرب ، عربی کا لفظ ہے جو مصدر ہے اور اس کے معنے بتائے گئے ہیں تربیت کرنا اور تربیت اس طرح كه وَهُوَ إِنْشَاءُ الشَّيْءٍ حَالًا فَحَالًا إِلى حَدِ التَّمَامِ کہ درجہ بدرجہ تربیت کرتے ہوئے، نشو و نما کرتے ہوئے ہر شے کی جو آخری حد ہے یعنی جو اس کی طاقتیں ہیں، جس حد تک وہ نشو و نما حاصل کر سکتی ہے۔اس حد تک پہنچانا، تو رب كل شيء اس میں وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ جو دلیل دی اس میں یہ بتایا گیا کہ کسی چیز کولو اور اس کی بناوٹ، اس کی زندگی، اس کی استعداد ذمہ داریوں سے ربودگی ان پر جہاں تک وہ پہنچی ان تک ہم غور کرو تو پہلی چیز تمہیں یہ نظر آئے گی کہ ہر شے اس عالمین کی ربوبیت کی محتاج ہے۔دوسری چیز تمہیں یہ آئے گی کہ یہ ربوبیت جو ہورہی ہے یہ اندھی نہیں ، اندھی ربوبیت