خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 613
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۱۳ خطبه جمعه ۲۹ فروری ۱۹۸۰ء اگر ہوتی تو آگ کبھی اپنی طاقت کو نشوونما کے ذریعہ کمال تک پہنچانے کے بعد جلاتی کبھی ٹھنڈا کرتی کیونکہ کوئی متصرف بالا رادہ ہستی اپنی مرضی سے اس کی ربوبیت کرنے والی نہ ہوتی کبھی ایک درخت کو آم کا پھل لگ جاتا، کبھی اس پر انگور لگ جاتے، کبھی اس پہ املتاس لگ جاتا، کبھی اس پر املی لگ جاتی، کبھی کڑوے پھل لگ جاتے۔ایک درخت تھا وہ پیدا ہوا، وہ بڑھا، اس نے پھل دینے شروع کئے لیکن logical hole اس کو انگریزی میں کہتے ہیں ایک منطقی ایسی queueable جس کی ہر چیز دوسرے سے بندھی ہوئی اور جس غرض کے لئے وہ بنی اس غرض کو پورا کرنے والی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر چیز اس کائنات کی ربوبیت کی محتاج تمہیں نظر آئے گی ، یہ ستارے ہیں، بیگلیکسیز ہیں، یہ سات آسمان ہیں جن کا ابھی ہمیں تھوڑا سا علم حاصل ہوا ہے۔لیکن زمین کا بھی ویسے تھوڑا ہی علم حاصل ہوا ہے۔خود انسان کا ، انسانی جسم کا یا انسانی وجود کا مجھے کہنا چاہیے وہ حصہ جس کا اس کی آزادی کے ساتھ تعلق نہیں ، جس کا اس کی ضمیر کے ساتھ تعلق نہیں۔مثلاً دل کی دھڑکن ہے اس کا انسان کی آزادی ضمیر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔مثلاً اس کا بلڈ پریشر ہے۔اس کا اس کی آزادی ضمیر کے ساتھ تو کوئی تعلق نہیں۔مثلاً اس کا ماں کی گود میں بچے کی حیثیت میں ایک وقت میں ہونا، پھر باہیں اور پاؤں کو ہلانا، پھر رینگنا، پھر کھڑا ہو جانا، پھر چلنا، پھر بڑے ہوجانا، پھر علوم حاصل کرنا ، ( علوم یہ غلط میرے منہ سے نکل گیا ) پھر اس کی جسمانی طاقتوں کی نشو نما کا ہو جانا، یہ اس کے اپنے اختیار میں نہیں ، گردہ ہے یہ اپنا کام کر رہا ہے، انسانی جسم کے اندر ایک کائنات ہے بذات خود، اور بڑا توازن اس کے اندر پایا جاتا ہے، ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ایک دوسرے سے علیحدہ ہو ہی نہیں سکتے۔ایک کا اثر دوسرے پر اتنا ہے کہ آدمی کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔باقیوں کی بھی رہ جاتی ہے عقل دنگ، کہ یہ کیا قصہ ہے۔یہ جو حصہ ہے انسانی وجود کا جس میں اس کی ضمیر کا تعلق نہیں، مگر میں نے کہا انسانی دل اور اس کی دھڑکنوں کا انسان کی ضمیر کے ساتھ ، اس کے ارادہ کے ساتھ ، کرنا یا نہیں کرنے کے ساتھ تعلق نہیں ، اب آپ اپنے دل کی دھڑکن کو کنٹرول کر سکتے ہیں کہ ایک منٹ میں کہیں کہ اب تو دس دفعہ دھڑک ، پھر اگلے منٹ میں کہیں کہ نہیں اس منٹ میں تو نے پچاس دفعہ دھڑکنا ہے، نہیں بالکل نہیں کہہ سکتے۔