خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 611
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۱۱ خطبه جمعه ۲۹ فروری ۱۹۸۰ء انسان کی پیدائش کی اصل غرض جو قرآن نے بتائی ہے وہ ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ خطبه جمعه فرموده ۲۹ فروری ۱۹۸۰ء بمقام مسجد احمد یہ مارٹن روڈ۔کراچی تشہد وتعوذ وسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔66 سورۃ انعام کی بہترویں آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اعلان کر دو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ہدایت آتی ہے اصل ہدایت وہی ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم سب جہانوں کے رب کی فرمانبرداری کریں۔ہدایت کے معنی یہ ہیں کہ وہ راستہ دکھلایا جانا جس پر چل کر مقصود حاصل ہو۔ہر شے کا، ہر جاندار کا، انسان کا علیحدہ علیحدہ مقصودِ حیات ہے۔رہبر اور ہادی ، رہنما اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔انسان کے علاوہ دوسری سب اشیاء کو اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے اور اس کے مطابق وہ اپنے کمال کو پہنچتی اور اپنے مقصودِ حیات کو حاصل کرتی ہیں۔انسان کے لئے اللہ تعالیٰ نے چونکہ جنتوں کا وعدہ کیا ہے اور آزادی ضمیر اسے عطا کی ہے ایک مخصوص دائرہ کے اندر اس کی زندگی میں۔اس لئے فرشتوں کی طرح اسے نہیں بنایا کہ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ جو انہیں کہا جائے وہ کریں بلکہ انہیں کہا جو تمہیں کہا جائے تمہاری مرضی ہے وہ کرو تمہاری مرضی ہے وہ نہ کرو۔اگر کرو گے خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق ، اپنی زندگیوں کو ڈھالو گے، تو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو گے اور اس کی جنتوں کو پاؤ گے اور اس کی