خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 609
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۰۹ خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۰ء نقش قدم پر چلتے اور آپ کی کامل اتباع کے نتیجہ میں فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کریں اور خود نمونہ بنیں آج کی دنیا کے لئے ایک اسوہ بن جائیں اور اس بہکی ہوئی دنیا کو کہیں کہ تم نے دنیاوی لحاظ سے ترقیات حاصل کر لیں اس میں شک نہیں ہم انکار نہیں کر سکتے۔لیکن تمہیں دل کا سکون نہیں ملا۔بیسیوں سینکڑوں ترقی یافتہ اقوام کے افراد نے خود مجھ سے یہ بیان کیا کہ ہمیں دل کا سکون نہیں ملا جب میں پڑھتا تھا آکسفورڈ میں اس وقت میرے دوست جو آکسفورڈ کے طالب علم تھے کئی دفعہ وہ کہتے تھے کہ ہم نے بڑی ترقیات کی ہیں مگر دل کا سکون نہیں ہمیں ملا۔اب یہ دل کا سکون ہے کہ دوسب سے زیادہ خطرناک ہتھیار رکھنے والی اقوام ہیں سب سے زیادہ وہی ڈر رہی ہیں کہ اگر یہ ہتھیار استعمال ہو گئے تو ہماری تباہی یقینی ہے۔خدا کی طرف سے دلوں کو اطمینان اس وقت ملتا ہے بذکرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ خدا تعالیٰ کے ذکر سے جو صحیح معنی میں قرآن کریم کی روشنی میں قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق وہ ذکر اللہ تعالیٰ کا کیا جائے اور جو اس کے احکام ہیں اس کی پیروی کی جائے۔اس کے نتیجہ میں انسان کو سکون ملتا ہے۔بچوں ، بڑوں مخلصین کو ، کمزوروں کو۔فسادات کے دنوں میں ہم نے دیکھا دنیا میں کوئی شخص اس قدر اطمینان اور سکون سے نہیں سوتا تھا جس وقت اس بھڑکتی ہوئی آگ میں ایک احمدی خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے رات کو آرام سے سو جاتا تھا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ میری قسمت کا فیصلہ میری کوشش نے نہیں کرنا ، میری قسمت کا فیصلہ، میری تقدیر کو قبول کر کے اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے۔اور اس کے آگے کوئی چیز انہونی نہیں اور جس چیز کو وہ چاہتا ہے کر سکتا ہے اور کرتا ہے اور اپنے وعدہ کے مطابق کرے گا مگر خدا مجھ سے اور آپ سے یہ چاہتا ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کریں۔آپ کے اُسوہ کو سامنے رکھیں ، اپنے دل سے ہر غیر کی خشیت کو مٹا کے صرف اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا کریں۔صرف اس پر بھروسہ رکھیں۔اس پر توکل کریں اور اس کے ہو جائیں ، اس کے دامن کو پکڑیں اور پکڑیں اس طرح مضبوطی سے جب ایک دفعہ پکڑ لیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت خدا کا دامن ہمارے ہاتھ سے چھڑا نہ سکے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے۔آمین