خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 604
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۰۴ خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۰ء بعد انّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ کے بعد یہ کہا کہ یہ اعلان کر دو کہ میں خدا کی نگاہ میں اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت بھی کرتا ہوں اور اطاعت اللہ ہی سے مخصوص اور وابستہ رکھتا ہوں۔قرآنِ کریم تو اللہ تعالیٰ کی وحی ہے نا، یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اعلان ہے کہ اے انسان ! قیامت تک پیدا ہونے والے انسان ! سن لے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مقام جس مقام پر وہ پہنچے ہیں ہم اس کا اعلان کرتے ہیں کہ ایسی عبادت جس میں ملونی کوئی نہیں، خالص ، ایسی عبادت جس کے ساتھ غیر کی اطاعت نہیں ہے۔ایسی عبادت جس کے ساتھ کسی اور کا شرک نہیں۔جس کے ساتھ یعنی میں نے بتایا والدین سے احسان کرنے کا بھی بڑا زور ہے لیکن جہاں خدا اور والدین کا مقابلہ ہو جائے اس وقت والدین کی اطاعت نہ کرنے کا حکم ہے ہر حکم جو قرآن کریم نے دیا وہ اس کی اطاعت کرنے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نظر آتے ہیں، کسی جگہ بھی آپ کی زندگی میں ایسا موقع نہیں آیا کہ ہمیں یہ نظر آئے کہ فَلَا تَخْشَوهُم وَاخْشَونی جو کہا گیا تھا کہ دل میں سوائے خدا کے کسی اور کی خشیت نہ ہو اس کے علاوہ بھی کوئی جذبات تھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ صافی میں۔تو یہاں یہ بتایا گیا کہ جو حکم دیا گیا تھا اسی کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے دن گزارے اور قرآنِ کریم نے اعلان کیا کہ ہمارے حکم کی پیروی کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اسی وجہ سے آپ اُسوہ حسنہ بنے نوع انسانی کے لئے ، اور یہ اعلان کیا گیا قرآنِ کریم میں لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ اگر خدا تعالیٰ کا پیار اس زندگی میں اور مرنے کے بعد جو کوئی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسوہ حسنہ تمہارے سامنے موجود ہے۔اس حُسنہ کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارو۔سورہ رعد میں یہ پانچویں بات میں نے جو کہی ہے وہ پہلے بھی آگئی ہے لیکن ان آیات کے تسلسل کے لئے یہاں مجھے دہرانی پڑی۔اِنَّمَا اُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں عبادت اللہ کی کروں اور خالص عبادت ہو۔کسی اور کو شریک نہ ٹھہراؤں اس کا۔شرک نہ کروں۔شرک صرف موٹا شرک نہیں ، بتوں کی پرستش ہی شرک نہیں ، انسانوں کو خدا بنا دینا ہی