خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 605
خطبات ناصر جلد ہشتم خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۰ء صرف شرک نہیں اپنے نفس کا بھی شرک ہے۔ہزار بت انسان نے اپنے لئے بنالئے۔ایک امیر ہے وہ اپنی دولت کی طرف سے شروع کر دیتا ہے اور دولت کے متعلق جو اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں ان کی پروا نہیں کرتا ، خدا نے کہا تھا فِی اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ کہ جب تک دنیا میں ایک سائل اور ایک بھی محروم ہے اس کی تفصیل میں اس وقت جانہیں سکتا کیونکہ اس مضمون میں بطور مثال کے میں دے رہا ہوں۔اس وقت تک دولت مند کی دولت میں سائل اور محروم کا حق ہے۔پہلے ان حقوق کو ادا کرو پھر ہمارے فضلوں سے فائدہ اٹھاؤ۔اس سے چین اور سکھ حاصل کرو۔اس سے دنیوی زندگی میں آرام پاؤ۔اور اُخروی راحتوں کے سامان پیدا کرنے کے لئے خدا کی راہوں میں اور بھی دوسرے جو طریقے ہیں ان پہ خرچ کرو لیکن دولت پر حق پہلا جو ہے وہ اس انسان کا ہے جو اپنے حقوق کو سمجھتا ہے جو خدا نے قرآن کریم میں قائم کئے اور وہ سائل ہے کہتا ہے خدا نے میرا حق قائم کیا ہے میرا حق دو۔اور ایک وہ شخص ہے جو یا تو جانتا نہیں کہ اس کے حقوق کیا ہیں اس واسطے مانگتا نہیں محروم ہے وہ، یا وہ سمجھتا ہے کہ اگر کوئی شخص میرا حق نہیں دیتا تو میں قربانی دیتا ہوں خدا کی رضا کے لئے اور فتنہ وفساد اور سٹرائیک کا موجب نہیں بننا چاہتا۔میں کئی دفعہ باہر گیا ہوں دورے پر ، پریس کانفرنس میں میں نے یورپین ممالک کے صحافیوں کو کہا کہ یہ طرفہ تماشہ ہے کہ تمہارا مزدور اپنے حقوق کے حصول کے لئے سٹرائیک تو کرتا ہے لیکن تمہارے مزدور کو یہ علم نہیں کہ اس کے حقوق کیا ہیں۔تو جس چیز کا علم ہی نہیں اس کو حاصل کیسے کرے گا۔اس تفصیل سے ان کو اسلامی تعلیم بتا تا رہا ہوں ،تو دولت مند دولت کی پرستش شروع کر دے۔خدا کے مقابلہ میں دولت کو کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ایک عالم اپنے علم کا بہت کھڑا کر لیتا ہے۔جو شخص اس کے زعم میں، خیال میں اس سے کم علم رکھنے والا ہے اس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ یہ بھول جاتا ہے کہ خدا نے یہ اعلان کروا یا خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے۔قُلْ اعلان کر دو انما انا بشر مثلکم کہ بشر ہونے کے لحاظ سے انسان انسان میں کوئی فرق نہیں۔مجھ میں اور تم میں بھی کوئی فرق نہیں ، تو عالم اور جاہل میں کیسے فرق ہو گیا، امیر اور غریب میں کیسے فرق ہو گیا۔ایک حاکم اور محکوم میں کیسے فرق ہو گیا۔بشر ہونے کے لحاظ سے کسی میں کوئی فرق نہیں۔حقوق ہیں، حقوق سے زیادہ مانگنا بُری بات ، وہ شرک ،حقوق