خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 538 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 538

خطبات ناصر جلد هشتم ۵۳۸ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جنوری ۱۹۸۰ء اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔اور بڑی ایک ہدایت اور راہنمائی کی یہ بات ہمیں بتائی کہ جو ظاہر طور پر بغیر کسی شک وشبہ کے ظلم کرنے والی اور ظلم میں حد سے بڑھنے والی قو میں یا گروہ یا جماعتیں ہیں ان کی طرف جھکومت بلکہ قائم رہو سیدھے ہو کر۔سیدھا راستہ ہے اس کے اوپر تم اپنے مقصود کی طرف منہ کر کے چلتے رہو۔ظلموا میں یہ مراد نہیں کہ یونہی کسی کو کہہ دو کہ تم ظالمانہ راہوں کو اختیار کر رہے ہو۔یہاں یہ مراد ہے وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ کہ ایسا ظلم جس کے متعلق کھلے طور پر انسان کی عقل کہتی ہے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے۔مثلاً فساد پیدا کرنا، آپس میں لڑنا ، مثلاً نا جائز علاقوں پر جانا، قبضہ کرنا اور وہاں قتل و غارت کرنا۔مثلاً عالمگیر جنگیں لڑنا ، دو جنگیں انسان لڑ چکا ہے۔جو ان جنگوں کے ذمہ دار ہیں جو ان جنگوں کی تباہی سے انسان کو بچاسکتے تھے اور انہوں نے ایسا نہیں کیا ان کا ظلم بالکل ظاہر ہے۔اب اس وقت ایک تیسری عالمگیر جنگ کا خطرہ افق کے اوپر دھندلا سا ہمیں نظر آنا شروع ہو گیا اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے قرآن کریم کی پیشگوئیوں کے مطابق اور ان پیشگوئیوں کے ظہور کے قُرب کی جو آپ کو اطلاع دی گئی اس کے مطابق بتایا ہے ایک نہایت ہی خطرناک جنگ کا بھی خطرہ انسان کے سامنے آئے گا۔یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ تیسری عالمگیر جنگ ہوگی یا چوتھی ہوگی یا پانچویں ہوگی لیکن یہ بغیر کسی شبہ کے انسان کہہ سکتا ہے کہ ہر جنگ پہلی سے زیادہ خطر ناک، پہلی سے زیادہ فساد پیدا کرنے والی انسانی زندگی میں بحیثیت انسان ساری دنیا میں جو انسان بستے ہیں وہ ہیں میرے سامنے اس وقت ، ان کے لئے بہت ہی زیادہ خرابی پیدا کرنے والی ہوگی۔مثلاً جب دوسری عالمگیر جنگ میں غالباً دو ہی ایٹم بم استعمال کئے گئے تھے لیکن ان کی تباہی بھی اتنی تھی کہ پچاس سال پہلے انسان کا دماغ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسی تباہی بھی انسان پر آنا ممکن ہے مگر آگئی اس وقت زیادہ بنے بھی نہیں تھے۔اس وقت ایٹم بم نے زیادہ ترقی بھی نہیں کی تھی یعنی تباہی کے جو سامان ہیں ان میں بہت زیادہ ترقی کر گیا انسان یعنی غلط راہوں پر وہ