خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 537 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 537

خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۳۷ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جنوری ۱۹۸۰ء میں پسندیدہ نہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے بہت جگہ فرمایا بڑا رحم کرنے والا ہوں۔معاف کر دیتا ہوں۔معاف کر دوں گا۔جب انسان صراط مستقیم پر ہی رہے اور جو اس کو اختیار دیا گیا تھا کہ یہ کر یا وہ کر اس اختیار میں غلطی کرے تو یہ گناہ کبیرہ نہیں یہ عصیان میں حد سے بڑھنا نہیں۔اس کا ذکر وَلا تَطْغَوا میں نہیں یعنی جو یہ کہا کہ پھر تم خدا تعالیٰ کے عذاب کے نیچے آجاؤ گے ایسے گناہ اس کے اندر نہیں آتے بلکہ ایسے جو گناہ ہیں وہ انسان کے جو دوسرے اعمال صالحہ ہیں اس کے اندر چھپ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت جو ہے اس سے انسان محروم نہیں ہو جا تا لیکن ایک گناہ وہ ہے کہ اسلام کہتا ہے کہ سچ بول ، جب بھی بول سچ بول اور ایک شخص متواتر جھوٹ ہی بولتا چلا جاتا ہے۔عادت اس کی بن گئی ہے جھوٹ بولنے کی۔یہ حد سے بڑھنا ہے یعنی اس نے صراط مستقیم کو چھوڑ دیا۔جو اسلامی تعلیم کی شاہراہ تھی اس کے کبھی دائیں طرف نکل جاتا ہے باہر حدود سے اور کبھی بائیں طرف نکل جاتا ہے۔تو ولا تَطْغَوا میں جو حکم ہے وہ یہ ہے کہ تعلیم کے اندر رہتے ہوئے جو تمہیں ہم نے اختیار دیا تھا کہ خود سوچو، غور کرو، دعائیں کرو اور ایسے رنگ میں دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ قبول کرے اور تمہیں بتا دے کہ تم نے دایاں راستہ اختیار کرنا ہے یا بایاں اختیار کرنا ہے۔اگر تمہاری دعا قبول نہیں ہوتی ، کی بھی تم نے۔تمہارے اندر کوئی اور کمزوری ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا۔تو گناہ تو ہو گیا۔اسلامی تعلیم کے خلاف ہوا کیونکہ اسلامی تعلیم یہ کہتی ہے کہ جہاں عفو کرنا ہے اگر تم عفو کی بجائے انتقام لو گے تو غلطی کرو گے۔اسلام یہ کہتا ہے کہ سچ بولو اور قول سدید ہو۔اس میں کوئی ایچ بیچ نہ ہو۔کوئی کبھی نہ ہو۔یہ تو بالکل واضح حکم ہے لیکن اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ جو سننے والا ہے تم اس کی عقل کے مطابق بات کرو۔اب ایک شخص ہے وہ کسی کو سمجھا رہا ہے اسلامی تعلیم کسی عیسائی کو لیکن عقل کے مطابق بات کرنے کا جو حکم تھا اس کے مطابق اس کا فیصلہ نہیں ، تو یہ گناہ تو ہے لیکن بات وہ سچی کر رہا ہے لیکن اس کی سمجھ کے مطابق، اس کی عقل کے مطابق نہیں کر رہا۔یہ غلطی کر رہا ہے۔یہ ولا تطغوا والا جو حکم ہے کہ عصیان میں، گناہ میں حد سے نہ بڑھو۔یہ اس کے نیچے نہیں آتا