خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 510
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۱۰ خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۷۹ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لیکن صرف یہ زندگی تو نہیں۔اس کے بعد ایک اور زندگی ہے اور اس کو قرآن کریم کی اصطلاح میں قیامت کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے یعنی مرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِيَامَته کہ جو شخص انفرادی طور پر مرے اسی وقت اس کی ایک قیامت ہو جاتی ہے لیکن ایک وہ ہے جب حشر ہوگا اور سارے اکٹھے کئے جائیں گے اور خدا کا پیار حاصل کریں گے یا اس کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن ان کے وہ اعمال جو دنیا کے لئے کئے گئے ہوں گے اور جن کے نتیجہ میں خدا کے پیار کو حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہوگی بے وزن ہوں گے ان کا کوئی وزن نہیں ہوگا ، بے نتیجہ ہوں گے ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ، لا حاصل ہوں گے ان سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔زندگی کا مقصد تھا کہ خدا کے عبد بنتے ، اس کے پیار کو حاصل کرتے ، ابدی جنتوں کے وارث بنتے وہ ان کے وارث نہیں بنیں گے۔یہ ہے جَزَاؤُهُمُ جَهَنَّمُ یہ جہنم ہے یعنی کہا کہ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ دو الْقِيمَةِ وَزْناً قیامت کے دن ہمارا پیارا نہیں حاصل نہیں ہو گا ذُلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ۔یہ جہنم ان کی جزا ہے اور اس لئے ہے کہ انہوں نے انکار کیا آیات کا۔خدا تعالیٰ نے جو دو قسم کی آیات جیسا کہ میں نے بتایا نازل کی تھیں انسان کی ہدایت کے لئے ایک اپنے ان جلوؤں کے ذریعے جو اس نے کائنات میں کئے اور جن سے اس کی عظمت ثابت ہوتی ہے، جن سے ہمیں یہ پتا لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا اپنی مخلوق کے ہر ذرے کے ساتھ ایک ذاتی اور ہمیشہ رہنے والا تعلق قائم ہے جس سے ہمیں پتا لگتا ہے کہ ایک لحظہ کے لئے اگر خدا تعالیٰ کا یہ قرب نہ ہو اس حَيّ وقیوم کا تو فنا آ جائے اس چیز پر جس سے وہ قطع تعلق کرتا ہے۔وہ ہلاکت ہے وہ عدم بن جاتا ہے اس کے لئے۔تو چونکہ انہوں نے کائنات میں ظاہر ہونے والے جلوؤں کا انکار کیا اور جو روحانی ارتقاء کے لئے اور روحانی رفعتوں کے حصول کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام اور اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔نوع انسانی کے لئے صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ان کی بھلائی کے لئے اب ایک زندہ نبی کی صورت میں قیامت تک انسانوں میں اپنے روحانی فیوض کے لحاظ سے زندہ ہیں اور موجود ہیں۔اس اتنی عظیم کتاب