خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 511
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۱۱ خطبہ جمعہ ۲۱؍دسمبر ۱۹۷۹ء اتنی عظیم آیات جس کا ایک ایک لفظ جو ہے وہ انسان کو حیران کر دیتا ہے اتنی ہدایتیں، اتنی خوبصورتیاں، محسن، پاک کرنے کی اتنی طاقت ، اتنا جذب ان کے اندر ہے لیکن اس کو پہچانا نہیں انہوں نے۔اور جولانے والے تھے یہ ہدایت جن کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے بھیجا تھا کہ وہ ان کی بھلائی کے لئے ان کی خیر کے لئے اس لئے بھیجا تھا کہ جو اس اُمت کو قائم کریں جس کے متعلق قرآن کریم نے اعلان کیا کہ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ خیر امت - أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ۔نہ اُس محمد ، اُس عظیم ہستی کو صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے پہچانا ، نہ آپ کے متبعین سے فیض حاصل کرنے کی کوئی کوشش کی بلکہ ہنسی کا اور مذاق کا نشانہ بنا یا خدا کی آیات کو بھی اور اس کے رسولوں کو پہلے بناتے آئے اور پھر حمد صلی اللہ علیہ وسلم کو۔جب یہ ہے حقیقت ان کی لوگوں کی زندگی کی تو اَخْسَرِینَ اعمالا تو ثابت ہو گیا۔خدا کے نزدیک بدترین عمل کے لحاظ سے وہ لوگ ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں جو ایت رم ہے۔خدا تعالیٰ نے اس لئے ان آیات کو ظاہر کیا تھا کہ ان کی جسمانی اور روحانی تربیت کرے، ربوبیت کرے ربّ ہے وہ ان کا۔اس لئے کیا تھا کہ وہ اس کے نتیجہ میں اس کے پیارکو اس کی رضا کو اور اس کی رضا کی جنتوں کو حاصل کریں۔ایک ابدی جنت ان کے نصیب میں ہو جہاں خیر ہی وہ چاہیں گے اور ہر خیر جو وہ چاہیں گے وہ ان کو ملے گی۔بڑی عجیب ہے وہ دنیا جسے ہم آج سمجھ نہیں سکتے ہماری طاقت میں نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ ہماری یہ آنکھ ، نہ ہمارے یہ کان، نہ ہمارا یہ دماغ اسے سمجھ سکتا ہے لیکن تمثیلی زبان میں اشارے اس کی طرف کئے گئے ہیں۔وہ اس کی حقیقت کو اس زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پیار کو جو وہاں جانے والے حاصل کریں گے ہر آن رفعتوں کے حصول کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں کچھ دھندلا سا نقشہ اس زندگی میں بتایا ہے اور پھر یہاں پیار کر کے بتایا ہے کہ اس زندگی میں جب میں پیار کرتا ہوں تمہاری امتحان کی ابتلا کی زندگی میں تمہاری غلطیوں اور کوتاہیوں اور غفلتوں اور گناہوں کے باوجود جہاں ہر قسم کے گناہوں سے خدا تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ پاک کر کے بھیجے گا اس کا تو نقشہ ہی کچھ اور ہوگا۔بہر حال یہ ان لوگوں کا بیان ہے ان آیات میں جو اپنے اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ گرے ہوئے ہیں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں۔