خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 502 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 502

خطبات ناصر جلد هشتم ۵۰۲ خطبہ جمعہ ۱۴ ؍دسمبر ۱۹۷۹ء ایک بلند تر مقام تمہیں حاصل ہوگا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو مقام خدا کے نزدیک ہے۔لَوْ لَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَخْلَاكَ کہ ہر دو جہان آپ کی وجہ سے ہی پیدا کئے گئے جو مقام آپ کا خدا کے نزدیک ہے اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ میرا پیار لینا چاہتے ہو تو میرے محمد کی اتباع کرو۔فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : ۳۲) پھر تمہیں خدا کا پیار بھی مل جائے گا۔یہ جو ظاہر و باطن طور پر کامل درجے کی بشارت ہے یہ اتنی بلند ، اتنی رفعتوں والی ، اتنی عظمتوں والی بشارت ہے، اتنی وسعتوں والی بشارت ہے کہ اس نے کامل انسان تک آپ کے متبعین کو پہنچادیا۔آپ کے قدموں میں ماننے والوں ، اُسوہ پر عمل کرنے والوں کو اکٹھا کر دیا۔اتنا بڑا انعام حاصل کرنا محض انسان کی کوشش سے ممکن نہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ سے ہی اُمت کو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاکوں کو پسند کرتا ہے۔پاکیزگی سے پیار کرتا ہے۔ہر گند سے پاک ہو جاؤ گے تو ہر حسن سے منور ہو جاؤ گے۔خدا کی نگاہ میں پاک ٹھہرو گے تو اپنی استعداد کے مطابق ظاہر و باطن میں ایک کامل درجہ خدا کے نزدیک تمہیں حاصل ہو جائے گا۔یہ انسان اپنی کوشش سے نہیں کر سکتا۔اس کے لئے خود ہمیں ایک راہ بتائی اور وہ راہ یہ بتائی کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة (البقرة : ۱۵۴) کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کا دعوی کرنے والو، اللہ پر ایمان کا دعوی کرنے والو کہ ہم خدا اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لائے جو بشارتیں تمہیں ملی ہیں اگر تم انہیں حاصل کرنا چاہتے ہو ، وہ بلند تر مقام جو تمہارے مقدر میں ہے اس بلندی اور رفعت تک تم پہنچنا چاہتے ہو تو یاد رکھو اپنے زور سے وہاں نہیں پہنچ سکتے۔نہ اپنی کوششوں سے خدا کے پیار کو حاصل کر سکتے ہو۔اس کے لئے ضروری ہے خدا تعالیٰ کی مدد کو حاصل کرنا۔اگر اللہ تعالیٰ فضل کرے اور اس کی مدد تمہارے شامل حال ہو۔اگر اس کی نصرت تمہیں توفیق دے کہ تم اس کے حضور قربانیاں پیش کر سکو۔اگر اس کی رحمت اور اس کا فضل تمہاری کوششوں میں تمہارے اعمالِ صالحہ میں ایک حسن پیدا کرے۔ایک نور پیدا کرے تب یہ ممکن ہے اور صرف اس وقت ممکن ہے۔اس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔اس لئے اگر اپنا مقدر حاصل کرنا چاہتے ہو۔یعنی جہاں تک تم پہنچ سکتے ہو جس غرض کے لئے