خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 501
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۰۱ خطبہ جمعہ ۱۴ /دسمبر ۱۹۷۹ء محمد صلی اللہ علیہ وسلم لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ کے مصداق ہیں خطبه جمعه فرموده ۱۴ / دسمبر ۱۹۷۹ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جو رسول بھی دنیا کی طرف مبعوث ہواوہ نذیر اور بشیر کی حیثیت سے مبعوث ہوالیکن جو بشارتیں انہوں نے دیں وہ اپنے مقام کے لحاظ سے دیں رسولوں کی رسالت میں فرق کرنا تو جائز نہیں۔لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ (البقرة : ۲۸۲) ہر رسول خدا کا پیارا اور فرستادہ ہے۔لیکن ہر رسول نے اپنے ماننے والوں کو جو بشارتیں دی ہیں ان میں بڑا فرق ہے۔اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ہمیں تو غرض اپنے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے جو بشارتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو دیں وہ اپنے مقام کے لحاظ سے تھیں اور اس قدر وسعت ہے ان بشارتوں میں اور اس قدر رفعت ہے ان بشارتوں میں کہ کوئی اور رسول اپنی بشارتوں کے لحاظ سے کوئی مقابلہ ہی نہیں رکھتا ان بشارتوں کے ساتھ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو جو بشارت دی وہ یہ تھی کہ اگر تم مجھ پر ایمان لاؤ۔ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو۔اپنی زندگیاں میرے اُسوہ کے مطابق ڈھالو تو خدا تعالیٰ تمہیں یہ بشارت دیتا ہے۔وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمُ (یونس : ۳) کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ظاہر و باطن طور پر ایک کامل درجہ