خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 35 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 35

خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۵ خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۹ء سامان پیدا کر دیئے اور مرنے کے بعد جو نعمتیں انسان کو ملتی ہیں ، جن میں سے سب سے بڑا حصہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔وہ تو اتنی اعلیٰ، اتنی بلند اور اتنی ارفع اور اتنی لذیذ ہیں کہ انسان ان کا اندازہ نہیں لگا سکتا لیکن لذیذ اس محدود معنی میں نہیں جس معنی میں ہم اس دنیا میں یہ لفظ استعمال کرتے ہیں بلکہ اس معنی میں کہ جسے ہم سمجھ بھی نہیں سکتے کیونکہ یہی کہا گیا ہے کہ جنت کی نعماء کو تم سمجھ نہیں سکتے۔تمہارے یہ دنیوی حواس ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے۔پس وہاں تو وہاں کے مطابق خدا تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے سلوک کرے گا۔لیکن اس میں ہمیں بھی ایک سبق دیا گیا ہے۔ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر عمل کرو۔ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ جیسا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مظہر صفات باری بن کر عزیز اور حریص اور رءوف اور رحیم کی صفات کا اظہار کیا تم بھی ان صفات کا رنگ اپنی صفات پر چڑھاؤ اور دنیا میں یہ اعلان کرو کہ ہم دنیا کے خادم تو ہیں مگر دنیا کے مزدور نہیں۔ہم نے دنیا سے اجرت نہیں لینی۔ہم نے جو لینا ہے اس عزیز ہونے اور حریص ہونے اور رءوف ہونے اور رحیم ہونے کے نتیجہ میں وہ اپنے رب سے لینا ہے اور جہاں تک ہمارا اپنے رب سے تعلق ہے۔اللہ ہمارے لئے کافی ہے۔لا الہ الا ھو اور اسی پر ہمارا تو گل ہے اور ہم علی وجہ البصیرت یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا رب رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی صفات کی صحیح معرفت عطا کرے اور اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو اور آپ کی عظمت اور رفعت کو سمجھنے کی تو فیق عطا کرے اور اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطا کرے کہ ہم ان راہوں پر چلیں جن راہوں پر چل کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ کے پیار کو حاصل کیا۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۹ را پریل ۱۹۷۹ء صفحه ۲ تا ۴)